گڈانی جہاں روز قانون ٹوٹتے اور سمجھوتے ہوتے ہیں

گڈانی شپ بریکنگ

گڈانی کے ساحل پر موجود تباہ حال ٹینکر پر کچھ مزدور سوار ہیں جو گیس بتی سے اس کو کاٹ رہے ہیں۔ ایک سال تک کنارے پر موجود اس تباہ حال آئل ٹینکر کی ایک سال کے بعد کٹائی ہو رہی ہے۔ گذشتہ سال گیس بتی سے ایسے ہی کٹائی کے دوران دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں 25 زائد مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حادثے کے بعد مزدوروں کی سلامتی اور تربیت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا یعنی ربڑ کے جوتوں، دستانوں، ہیلمٹ، اور ڈانگری لباس کی فراہمی، لیکن اس پر عمل درآمد محدود ہے۔

شپ بریکنگ ورکرز یونین کے سربراہ بشیر محمودانی کہتے ہیں کہ 'کچھ یارڈز میں ہیلمٹ فراہم کیے گئے ہیں کسی کو ٹوپی پہنا کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ سکیورٹی فراہم کردی گئی ہے، ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ جب ایک مزدور کام کرنے آئے تو اس کو مکمل سکیورٹی ہونی چاہیے اگر رات کو کام ہو رہا ہے تو روشنی کا معقول انتظام کیا جائے۔'

گڈانی کا ساحل اس وجہ سے بھی شپ بریکنگ کے لیے سازگار ہے کیونکہ یہاں سمندر گہرا ہے اور جہاز کو کنارے تک لانے میں دشواری نہیں ہوتی۔ یہاں ساحل کو 300 سے زائد پلاٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے مالکان مقامی وڈیرے یا صوبائی حکومت ہے، موجودہ وقت یہاں پر 30 سے 40 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

گذشتہ ایک سال میں یہاں 70 کے قریب جہاز لائے گئے، جن میں کوئی آئل ٹینکر نہیں تھا، تاہم پھر بھی جہاز میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جس میں کم از کم سات مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

سبز علی پچھلے دنوں ایک ایسے ہی حادثے میں زخمی ہو گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وینچ مشین آپریٹر ہیں۔ کام کے دوران ایک انگلی مشین کے اندر چلی گئی اور کچل گئی جس کا علاج جاری ہے۔ 'ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس میں راڈ لگے گی اور صحتیاب ہونے میں دو سے ڈھائی ماہ لگ سکتے ہیں۔'

مقامی مزدوروں نے ہمیں بتایا تھا کہ سبز علی کو زخمی حالت میں بھی کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن سپروائزر کی موجودگی میں اس کا کہنا تھا کہ 'سیٹھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ علاج کرایا جائے گا اور دہاڑی بھی جاری رہے گی۔'

حادثات کے بعد یہاں ایمبولینس کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاہم ہسپتال اور برن وارڈ کی تعمیر نہیں ہو سکی جن کا شپ بریکرز نے حکومت سے وعدہ کیا تھا۔ ہپستال کے لیے ایک مقامی شخص نے زمین عطیہ کی تھی، جس پر سنگ بنیاد بھی رکھا گیا تھا۔

یہاں شپ بریکرز مزدورں کی خود بھرتی نہیں کرتے بلکہ یہ بھرتیاں ٹھیکیداروں کی مدد سے کی جاتی ہیں اور مزدوروں کو دہاڑی سے زیادہ کوئی مرعات نہیں ملتی۔

ضمیر حسین نامی مزدور نے بتایا کہ وہ سارا دن لوہا اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے تیل سے آلودہ اپنی شلوار قمیص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 'کپڑے دیکھو، جوتے وغیرہ کمپنیاں نہیں دیتیں، کہتے ہیں اپنے لے کر آؤ۔ تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں انھیں چھوڑ کر مزدوری کے لیے آتے ہیں، یہاں حالات ایسے ہیں کہ وقت پر تنخواہ تک نہیں دیتے۔'

شپ بریکنگ انڈسٹری میں گذشتہ سال کے حادثے کے بعد چار کے قریب یارڈز کو ماڈل کے طور پر بنایا گیا ہے، جن میں چوھدری غفور کا یارڈ بھی شامل ہے، جہاں پچھلے سال حادثہ پیش آیا تھا۔ ان یارڈز میں مزدوروں کو ہیلمٹ، دستانے، لانگ شوز اور ڈانگری پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ آگ بجھانے والے آلے بھی داخلی راستے کے ساتھ موجود ہیں۔

مزدور رہنما بشیر محمودانی کا کہنا ہے کہ انسپیکشن کے لیے آنے والے افسران کو یہی یارڈز دکھائے جاتے ہیں۔

اس صنعت میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے علاقے اپر دیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وعدہ ان کے لیے کوارٹروں کی تعمیر کا بھی تھا۔ فی الوقت مزدوروں کی اکثریت لکڑی کے کیبنوں میں مقیم ہے جو جہاز کی ناکارہ لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔

ایک مزدور محمد یاسین کا کہنا ہے کہ 'کوارٹر میں گنجائش نہیں ہے۔ ایک جگہ میں درجنوں مزدور موجود ہوتے ہیں، کوئی ادھر تو کوئی ادھر کے چکر لگا رہا ہوتا ہے، کینٹین کا بھی انتظام نہیں، 12 رپے کی روٹی اور 70، 80 روپے کا سالن ہوتا ہے، مشکل سے 15 ہزار رپے کماتے ہیں جس میں سے پانچ سے چھ ہزار روٹی کا بل بن جاتا ہے۔'

گڈانی میں پینے کے میٹھے پانی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ یارڈز میں مالکان پانی کے ٹینکر منگواتے ہیں جبکہ مزدورں کی رہائشی کالونی میں کنویں کھودے گئے ہیں جن کا پانی کھارا ہوتا ہے۔

شپ بریکنگ ورکرز یونین کے سربراہ بشیر محمودانی کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے جو کمیٹیاں بنائی تھیں اس میں مالکان نے کہا تھا کہ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے، ہسپتال اور رہائشی کوارٹر بنا کر دیں گے، لیکن ایک بھی وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہمارا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ پینے کے پانی کے لیے آر آو پلانٹ لگایا جائے، ہر پلاٹ میں کینٹین اور صاف ستھری رہائش کالونی ہو۔'

شپ بریکرز اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین حاجی عبدالغفور میمن کیمرے پر آنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کافی بہتر ہے، ہر ماہ مقامی ہسپتال کو ایک لاکھ تک کی دوائیں فراہم کی جا رہی ہیں، ہپستال بھی بنے گا اور مزدوروں کے بچوں کو اسکول میں داخلہ بھی دلایا جائے گا۔'

گڈانی حادثے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تحقیقات کے لیے وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کو تحقیقات کے لیے بھیجا تھا، ایک سال کے بعد وہ پیش رفت سے مطمئن ہیں۔

'کمیشن کی سفارشات پر قانون سازی ہو رہی ہے، اس وقت یہ اسمبلی کے اندر پراسیس میں ہے کیونکہ اس سےقبل پاکستان میں شپ بریکنگ کا کوئی قانون موجود نہیں تھا، جو اب بنایا جا رہا ہے، جن لوگوں کی غفلت تھی ان کو سزا بھی ملی اور جو مارے گئے انھیں معاوضے کی ادائیگی بھی کر دی گئی تھی۔'

شپ بریکنگ انڈسٹری ماحولیات کے علاوہ انسانی صحت کے لیے بھی جان لیوا ہے، یہاں نگرانی کے لیے نصف محکمے اور درجنوں ملازم تعینات ہیں لیکن ہر روز قانون ٹوٹتے اور سمجھوتے ہوتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں