’دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ‘

امریکی شہر نیویارک میں ایک شخص نے راہگیروں پر گاڑی چڑھا دی جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پولیس نے اسے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

نیویارک پولیس نے بتایا ہے کہ منگل کی شام ایک سفید پک اپ گاڑی مین ہیٹن کے زیریں علاقے میں پیدل چلنے والوں اور سائکل چلانے والوں کے راستے میں آ گئی اور کئی لوگوں کو کچل ڈالا۔

،تصویر کا کیپشن

اس واقعے میں اب تک کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 11 شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ سڑک کے کنارے کئی سائکلیں ایک دوسرے میں الجھی پڑی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

پولیس کا کہنا ہے کہ پیدل چلنے والوں کے لیے مختص سڑک پر جنوب کی جانب سے پک اپ ایک سکول بس سے ٹکرائی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

اس میں سے ایک شخص نقلی بندوق لہراتا ہوا باہر آيا جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے بس اتنا ہی بتایا کہ انھوں نے ایک 29 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے لیکن مقامی میڈیا نے اس کا نام سیفلو سائپوف بتایا ہے جو کہ ایک پناہ گزین ہے اور سنہ 2010 میں امریکہ آیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

بعض زخمیوں کی جائے حادثہ پر پہلے پہنچنے والے طبی عملے (فرسٹ رسپانڈینٹ) نے امداد کی۔

،تصویر کا کیپشن

جبکہ دیگر زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

بہت سے عینی شاہدین اس واقعے سے صدمے میں ہیں۔ پولیس نے لوگوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی ہے کیونکہ وہاں اہم ایمرجنسی سروس جاری ہے۔

،تصویر کا کیپشن

جائے وقوعہ پر گاڑیوں کی جانچ کے لیے پولیس کتوں کا استعمال کر رہی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

اس واقعے کے بعد وہاں قائم ایک سکول سے بچوں کو ان کے والدین فوراً لے گئے اور پولیس نے اس علاقے کو سیل کر دیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

شہر اور ریاست کے اعلیٰ حکام نے ہنگامی میٹنگ کی ہے تاکہ اس واقعے سے اچھی طرح نمٹا جا سکے۔ نیویار سٹی کے میئر بل دا بلاسیو نے اسے 'معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ' قرار دیا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ آور کو 'بیمار ذہنیت والا شخص' کہا ہے۔