نیو یارک حملے کے ملزم پر دہشت گردی کی فردِ جرم عائد

نیویارک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نیو یارک حملے کے ملزم سیف اللہ سائپوف پر مین ہیٹن میں آٹھ افراد کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے الزام میں دہشت گردی کی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

29 سالہ سائپوف پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو مادی امداد اور وسائل فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ سائپوف نے ان سے آزادانہ طور پر گفتگو کی ہے، اور انھوں نے دورانِ حراست خود شہادتی کے عمل سے دست برداری اختیار کی ہے۔

نیو یارک حملہ: سیف اللہ سائپوف کون ہیں؟

نیو یارک حملہ: ہلاک ہونے والوں میں پانچ دوست بھی شامل

ادھر نیو یارک پولیس نے کہا ہے کہ سائپوف شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے متاثر تھے۔

نیو یارک پولیس کے ڈپٹی کمشنر جان ملر نے بتایا کہ مین ہیٹن میں کی جانے والی واردات کے جائے وقوعہ سے عربی زبان میں لکھے ہوئے پیغامات ملے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیا گیا۔

سیف اللہ سائپوف کا تعلق ازبکستان سے ہے۔ انھیں پولیس نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اور وہ اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج اور زیرِ حراست ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ملر نے کہا کہ 'رات کو کی جانے والی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ سائپوف کئی ہفتوں سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ 'انھوں نے یہ کام دولتِ اسلامیہ کے نام پر کیا، اور جائے وقوعہ سے ملنے والے کچھ پیغامات اور دوسری چیزوں سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے۔

'ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر دی جانے والی ہدایات پر ہوبہو عمل کیا ہے، وہ ہدایات جن میں اپنے پیروکاروں سے کہا گیا ہے کہ اس قسم کے حملے کس طرح سرانجام دیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

پولیس نے ریاست نیو جرسی کے شہر پیٹرسن میں سائپوف کے مکان کو مقفل کر دیا ہے اور وہ وہاں چھان بین کر رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں دولتِ اسلامیہ کو عراق اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی بدولت پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بیشتر علاقوں سے اس کا قبضہ چھڑا لیا گیا ہے۔

حملے پر ردِ عمل

نیو یارک میں اہم مقامات پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جب کہ آئندہ اتوار کو شہر میں ہونے والی میراتھن دوڑ کے موقعے پر اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

Image caption نیو یارک کے میئر اینڈریو کومو کے خیال میں سائپوف نے یہ حملہ تنِ تنہا کیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ویزا لاٹری پروگرام ختم کر رہے ہیں جس کے تحت سیف اللہ امریکہ آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ملزم کو گوانتانامو بے بھیجنے پر غور کریں گے۔

انھوں نے امریکی نظامِ انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’جو سزا اس وقت ان جانوروں کو مل رہی ہے، ہمیں اس سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور کہیں بڑی سزاؤں کا نظام وضع کرنا ہو گا۔‘

ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا کہ بظاہر حملہ آور نے تنِ تنہا یہ حملہ کیا ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'وہ ایک بدکردار بزدل ہے، اس کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے تھا اور وہ یہیں انتہاپسندی کی طرف مائل ہوا۔'

گورنر کومو اور نیو یارک کے میئر دونوں نے کہا ہے کہ ملزم اس لیے اسلحہ حاصل نہیں کر سکا کہ ریاست نیو یارک میں اسلحہ خریدنے کے سخت قوانین نافذ ہیں۔

یاد رہے کہ سائپوف کے پاس سے ایک چھرے دار بندوق اور ایک پینٹ بال گن برآمد ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں