’اخلاق خراب کرنے‘ کے جرم میں مصری ٹیلی ویژن اینکر کو تین سال قید

النہار ٹی وی تصویر کے کاپی رائٹ AL NAHAR TV

ایک مصری ٹیلی ویژن میزبان کو اپنے پروگرام کے دوران شادی کے بغیر حاملہ بننے کے طریقے بتانے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

النہار ٹی وی کے لیے کام کرنے والی دعا صلاح نے ناظرین سے پوچھا تھا کہ کیا انھوں نے شادی کے بغیر سیکس کے بارے میں سوچا ہے؟ اس کے علاوہ انھوں نے مشورہ دیا تھا کہ عورتوں کو مختصر عرصے کے لیے شادی کرنی چاہیے اور بچے پیدا ہونے کے بعد طلاق لے لینی چاہیے۔

انھیں عوام کا اخلاق خراب کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ تین برس قید کے علاوہ ان پر دس ہزار مصری پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے ای ایف ای کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پروگرام سے مصری زندگی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

مصری معاشرے میں شادی کے بغیر سیکس کو بڑی حد تک ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔

دعا صلاح نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ عورت کو چاہیے کہ وہ شوہر کو مختصر عرصے کے لیے شادی کرنے کا معاوضہ دے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سپرم کا عطیہ مغربی ملکوں میں قابلِ قبول ہے لیکن مصر میں نہیں۔

پروگرام نشر ہونے کے بعد انھیں تین ماہ کے معطل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

وہ سزا کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں