بیلفور معاہدہ: فلسطین میں مظاہرے، لندن میں تقریب

برطانیہ تصویر کے کاپی رائٹ PA

ایک صدی قبل نومبر 1917 کو بیلفور معاہدہ طے پایا تھا اور برطانوی حکومت نے یہودیوں کے لیے فلسطین میں ملک کے قیام کے لیے رسمی پالیسی بیان بھی جاری کیا تھا۔ اوپر نظر آنے والی تصویر اسی معاہدے کے سو سال مکمل ہونے کی یاد میں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ملاقات اور خصوصی عشائیے کے موقع پر لی گی ہے۔ لیکن فلسطین میں دو روز سے مختلف مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

balford تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ فلطسین کے علاقے بیت الہم کا منظر ہے جہاں مظاہرین اس معاہدہ بیلفور کے روح رواں آرتھر بیلفور کی تصویر کو اٹھائے ہوئے ہیں اور مذمت کا اظہار کرنے کے لیے اس پر ’شیم‘ لکھا گیا ہے۔

اسرائیلی اور یہودی کمیونٹی اس معاہدے کو یادگار سمجھتی ہے اور فلسطینوں کی نظر میں یہ ناانصافی پر مبنی تھا۔ تاہم برطانیہ نے فلسطین کی جانب سے معافی کے مطالبے کو مسترد کر کے کہا تھا کہ اسے اس معاہدے میں اپنے کردار پر فخر ہے۔

فلسطین، مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غرب اردن میں ایک فلسطینی شخص نے برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کی تصویر اٹھا رکھی ہے۔

ہزاروں میل دور لندن میں برطانوی وزیراعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج کل یہودیوں کے خلاف ایک مضر طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے جس میں اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کو مایوس کن قرار دے کر اسرائیل کے قیام کے وجود پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ Getty

غزہ میں مظاہرے کا ایک منظر جہاں ایک عمر رسیدہ شخص نے فلسطین کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ اس معاہدے کے سو سال مکمل ہونے پر غزہ میں ہونے والے مظاہروں کا ایک منظر۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدے کو مسترد کیا اور اس کے اظہار کے لیے دی گارڈین میں اپنا نقطہ نظر بیان کیں ہے۔

عزہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غزہ میں بھی مظاہرے ہوئے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد دکھائی دی۔ اس برطانوی معاہدے نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی تاہم اس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعات کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔

تیتن یاہو نے لندن میں اپنے خطاب میں کہا کہ معاہدہ بیلفور کے سو برس کے بعد فلسطینوں کو چاہیے کہ وہ یہودیوں کے ملک اور ریاست کو تسلیم کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایسا ہو جائے گا تو امن کی جانب راستہ بہت قریب ہو جائے گا اور ’میرے خیال میں امن حاصل ہو جائے گا۔‘

اطلاعات کے مطابق لیبر پارٹی کے جریمی کوربائین اس عشائیے میں شریک نہیں ہوئے۔

فلسطین، مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فلسطین کے شہر رملہ میں مظاہرے میں شامل ان خواتین نے اس معاہدے کے بعد گذشتہ ایک صدی کے دوران خطے کے نقشے میں ہونے والی تبدیلیوں کو واضح کیا ہے۔

نیبلس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غرب اردن کے شہر نیبلس میں مظاہرین نے معاہدے کے روح رواں بیلفوڈ اور برطانیہ کی موجودہ وزیراعظم ٹریزامے کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔

فلسطین، مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
فلسطین، مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

۔