شام: ’دولت اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ دیر الزور فوج کے قبضے میں‘

دیر الزور

،تصویر کا ذریعہAFP/ getty

،تصویر کا کیپشن

دولت اسلامیہ نے دیر الزور کو سنہ 2014 میں قبضے میں لیا تھا اور عراق کی سرحد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ دولت اسلامیہ کے لیے نہایت اہم تھا

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فوج نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے آخری مضبوط گڑھ دیر الزور پر قبضہ کر لیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’شہر کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا گیا ہے‘۔

دیگر اطلاعات کے مطابق شامی فوج اور اس کے اتحادی دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ بچی کچھی جگہوں کو کلیئر کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے اس علاقے کو سنہ 2014 میں قبضے میں لیا تھا اور عراق کی سرحد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ دولت اسلامیہ کے لیے نہایت اہم تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

شامی فوج کا شہر پر قبضے کے دوران سپاہی وکٹری کا نشان بناتے ہوئے

اس سے قبل برطانیہ میں قائم مبصر گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد شامی فوج نے شہر کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

ساڑھے تین لاکھ شہری یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

شام کے بارے میں مزید پڑھیے

گذشتہ ماہ امریکی اتحاد کی حمایت حاصل کرنے والے شامی جنگجوؤں نے مشرقی شہر رقہ جسے دولت اسلامیہ اپنا ہیڈکوارٹر تصور کرتی تھی پر قبضہ حاصل کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

شہر کے ساڑھے تین لاکھ مکین اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں، یہاں کم ہی مکانات ایسے دکھائی دیتے ہیں جو تباہی سے بچے سکے ہوں

دیر الزور صوبے میں کنٹرول حاصل ہونے کے بعد شامی سکیورٹی فورسز کو عراق کے ساتھ اہم راستوں کا کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔