شام: ’دولت اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ دیر الزور فوج کے قبضے میں‘

دیر الزور تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ getty
Image caption دولت اسلامیہ نے دیر الزور کو سنہ 2014 میں قبضے میں لیا تھا اور عراق کی سرحد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ دولت اسلامیہ کے لیے نہایت اہم تھا

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فوج نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے آخری مضبوط گڑھ دیر الزور پر قبضہ کر لیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’شہر کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا گیا ہے‘۔

دولت اسلامیہ 5600 جنگجو: گھروں کو لوٹ گئے

امریکہ نے رقہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا: روس

’شامی حکومت خان شیخون پر سارین گیس کے حملے میں ملوث تھی‘

دیگر اطلاعات کے مطابق شامی فوج اور اس کے اتحادی دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ بچی کچھی جگہوں کو کلیئر کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے اس علاقے کو سنہ 2014 میں قبضے میں لیا تھا اور عراق کی سرحد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ دولت اسلامیہ کے لیے نہایت اہم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی فوج کا شہر پر قبضے کے دوران سپاہی وکٹری کا نشان بناتے ہوئے

اس سے قبل برطانیہ میں قائم مبصر گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد شامی فوج نے شہر کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

ساڑھے تین لاکھ شہری یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

شام کے بارے میں مزید پڑھیے

دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘

شام میں میزائل لانچرز کی تنصیب پر روسی تشویش

گذشتہ ماہ امریکی اتحاد کی حمایت حاصل کرنے والے شامی جنگجوؤں نے مشرقی شہر رقہ جسے دولت اسلامیہ اپنا ہیڈکوارٹر تصور کرتی تھی پر قبضہ حاصل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر کے ساڑھے تین لاکھ مکین اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں، یہاں کم ہی مکانات ایسے دکھائی دیتے ہیں جو تباہی سے بچے سکے ہوں

دیر الزور صوبے میں کنٹرول حاصل ہونے کے بعد شامی سکیورٹی فورسز کو عراق کے ساتھ اہم راستوں کا کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں