القاعدہ کی قید میں میری زندگی کے شب و روز

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ PHIL COOMES
Image caption سٹیفن میک گؤن کو نومبر 2011 میں القاعدہ نے یرغمال بنا لیا تھا

یہ صحرائے صحارا کی صاف موسم والی رات تھی۔ سٹیفن میک گاؤن کھلے آسمان کے نیچے تاروں پر نظریں جمائے لیٹے تھے۔

انھیں جنوبی افریقہ میں گزارے ہوئے اپنے بچپن کے دن یاد آ رہے تھے۔ انھوں نے سوچا 'اگر میں القاعدہ کا قیدی نہیں ہوتا تو یہ زندگی کی کتنی خوبصورت چھٹیاں ہو سکتی تھیں۔'

’مغوی خاندان کو پانچ سال تک پاکستان میں ہی رکھا گیا‘

’طالبان نے میری بیوی کو ریپ کیا‘

کینیڈین جوڑا افغانستان میں کیا کر رہا تھا؟

کیمپ میں روزانہ کی زندگی کیسی تھی؟

سنہ 2017 کے آغاز میں لندن کے بینکر سٹیفن میک گاؤن کو یرغمالی کے طور پر پانچ سال ہو چکے تھے۔

وہ اپنے کیمپ میں واحد شخص تھے جنھیں موسم سرما کے دنوں میں بھی کھلے آسمان کے نیچے سونا پسند تھا۔

لیکن ایسی کھلی جگہ میں رہنے کے باوجود، ان کی زندگی 'بہت محدود اور بے رنگ' تھی۔

سٹیفن روزانہ سورج نکلنے سے قبل نماز پڑھنے کے لیے بیدار ہو جاتے اور باقی قیدیوں اور یرغمال بنانے والوں کے ساتھ ریت پر نماز ادا کرتے۔

صحارا صحرا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ناشتے میں انھیں ڈبل روٹی اور ملک پاؤڈر سے تیار دودھ ملتا تھا۔ اس کے بعد لوگ یا تو سونے یا پھر ورزش کرنے چلے جاتے تھے۔

سٹیفن کہتے ہیں 'ہم ایک سٹیڈیم جتنے بڑے علاقے میں ارد گرد گھومنے کے لیے آزاد تھے، لیکن اگر آپ بہت دور نکل جاتے تو آپ کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا اور جو چہرے دوستانہ ہوتے تھے وہ اچانک سخت ہو جاتے۔'

دوپہر کے کھانے میں دلیہ یا چاول دیا جاتا تھا۔ یہ چھپا کر ایک بڑی جگہ میں رکھا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ بکری، بھیڑ یا اونٹ کا گوشت دیا جاتا تھا۔

قیدیوں کو لکڑی پر اپنا کھانا پکانے دیا جاتا تھا کیونکہ جہادی اپنا کھانا بنانے میں تیل کا زیادہ استعمال کرتے تھے۔

قیدیوں کو دن میں قرآن یاد کرایا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں 'میں عربی زبان کے الفاظ صحیح طریقے سے ادا نہیں کر پاتا تو وہ ہنستے تھے۔ لہذا میں قرآن تنہا ہی پڑھتا تھا۔'

وہ اکثر پوچھتے کہ قرآن کی تعلیم کیسی چل رہی ہے؟

سٹیفن نے بتایا کہ جس جھونپڑی میں وہ رہتے تھے اسے انھوں نے خود ٹھیک کیا تھا تاکہ ہوا کا مناسب گزر ہو اور ریت کی چمک اندر نہیں آئے۔

دوست بننے کی کوششیں

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام کو جب ماحول خوشگوار ہوتا تو وہ اپنے یرغمالیوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتے۔

سٹیفن بتاتے ہیں 'وہ چائے بناتے اور القاعدہ کی ویڈیو دیکھتے تھے یا کبھی کبھی فرانسیسی ریڈیو کی نشریات سنتے تھے۔'

کبھی کبھار تنہائی کی خواہش ہوتی تھی۔ ان کے آس پاس رہنے، موت اور سر قلم کردینے کے لطیفوں سے وہ تنگ آ چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’حجاب لینا نہیں چھوڑا، اسلام قبول کرنے پر نو کمنٹ‘

٭ دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘

٭ ’اسامہ بن لادن کے مکان سے پشتو اور انڈین گانے ملے‘

سٹیفن نے بتایا کہ 'عشا کی نماز پڑھنے کے بعد ہم سونے چلے جاتے تھے۔'

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اکثر ان کے اہل خانہ کی یاد آتی اور سوچتے کہ کیا ان کے گھر والے ان کا اب بھی انتظار کرتے ہوں گے، اور سوچتے ہوں گے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

سفر

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN
Image caption موٹر سائیکل سے برطانیہ سے جنوبی افریقہ کے سفر پر نکلے تھے

پانچ سال قبل سٹیفن اور ان کی اہلیہ کیتھرین جوہانسبرگ جانے کے لیے پٹنی کے فلیٹ میں اپنا سامان باندھ رہے تھے۔

ان کی ملاقات سنہ 2006 میں لندن میں گھر کی کرایہ داری کے سلسلے میں ہوئی تھی۔ سٹیفن شہر میں کام کرتے تھے جبکہ کیتھرین این ایچ ایس میں بچوں کی سپیچ تھیراپسٹ تھیں۔

کچھ عرصے بعد ان دونوں نے شادی کر لی۔

سنہ 2011 میں دونوں نے جنوبی افریقہ واپس آنے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ دونوں پلے بڑھے تھے۔

کیتھرین نے ہوائی جہاز سے واپس جانے کا فیصلہ کیا جبکہ سٹیفن نے اپنی موٹر سائیکل سے یورپ سے گھومتے ہوئے افریقہ واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

موٹر سائیکل سے سفر کا خیال انھیں بی بی سی پر نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم 'لانگ وے ڈاؤن' سے آیا تھا۔

سٹیفن نے 11 اکتوبر 2011 کو برطانیہ چھوڑ دیا تھا۔ وہ فرانس، سپین، جبرالٹر سے ہوتے ہوئے مراکش پہنچے اور نو نومبر کو وہ مالی کی طرف نکل پڑے۔

سٹیفن یرغمال کیسے بنے؟

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN
Image caption سٹیفن اور کیتھرین کی شادی کی تصویر

سٹیفن نے اپنا زیادہ تر راستہ ڈچ موٹر سائیکل سوار فوکّے کے ساتھ طے کیا۔ درمیان میں وہ ایک دوسرے سے علیحدہ بھی ہو گئے تھے۔

دونوں نے برکینا فاسو میں ملنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن آخری لمحوں میں سٹیفن نے ٹمبکٹو کے سفر پر جانے والے کچھ سیاحوں کے ساتھ جانے کے لیے راستہ بدل لیا تھا۔

سٹیفن وہاں فوکّے سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔

وہاں ان کی ملاقات پرتگال کے سیاح جوڑے سجاکے اور ٹیلی رجکے، سویڈن کے سیاح یوحان گسٹیفسن اور جرمنی کے سیاح مارٹن سے ہوئی۔

25 نومبر کو سیاحوں کا یہ گروپ ٹمبکٹو کے دورے پر نکل پڑا۔

آسمان اس دن صاف تھا۔ سٹیفن ایک جگہ دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN

اسی وقت کچھ لوگ وہاں آ دھمکے۔ ایک کے ہاتھ میں پستول تھی جبکہ دوسرا کلاشنکوف لیے راستے میں کھڑا تھا۔

انھیں خیال آیا کہ یہ پولیس والے ہیں۔

سجاک اور یوحان کے ساتھ انھیں ایک گاڑی میں ٹھونس دیا گیا۔

سٹیفن نے کہا 'جرمنی کے سیاحوں نے تھوڑا سا احتجاج کیا۔ اسی وقت میں نے گاڑی کے پیچھے گولی کی آواز سنی۔'

ظلم کے درمیان زندگی!

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN

سٹیفن کے والد میلکم میک گاؤن کو جوہانسبرگ میں ہالینڈ میں مقیم فوکّے کی والدہ کا فون آيا۔

اس وقت انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے سٹیفن کو القاعدہ نے اغوا کر لیا ہے۔

اس وقت سٹیفن کی بیوی کیتھرین اور ان کی بہن لندن میں ہی تھیں۔ انھیں بھی اس کا علم ہوا۔

کیتھرین نے کہا کہ انھیں دوبارہ سٹیفن سے ملنے کی امید تھی۔

دوسری جانب سٹیفن اور دیگر اغوا شدہ لوگوں کو گاڑیوں کے ذریعے کچے ریگستانی راستے سے لے جایا جا رہا تھا۔

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN

گھنٹوں سفر کرنے کے بعد سٹیفن، سجاک اور یوحان کو مالی کے شمال میں صحارا ریگستان میں گاڑی سے اتارا گيا۔

انھیں بتایا گیا کہ القاعدہ کے المغرب گروپ نے انھیں اپنا قیدی بنالیا ہے۔

سٹیفن کی دوہری شہریت تھی اور اس وقت ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا۔

وہ اس بات سے خوفزدہ تھے کہ ماضی میں جہادیوں نے برطانوی شہریوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا۔

اس انتہا پسند گروپ نے الجزائر کی حکومت سے لڑتے ہوئے سنہ 1990 اپنی توسیع کی تھی۔

مغربی ممالک کے قیدیوں کو شمالی افریقہ لے جایا جاتا تھا جنھیں مسلم قیدیوں یا پیسے کے عوض چھوڑا جاتا تھا۔

سٹیفن کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا گیا کہ وہ ہمیں نہیں ماریں گے۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہم ان کے لیے پریشانی پیدا نہ کریں۔ ہم سب حیران تھے۔'

سٹیفن

پہلی شام ہمیں ڈرانے کے لیے انھوں نے ہمارے سامنے ایک جانور کو ذبح کیا۔

جب انھیں سٹیفن کے برطانوی پاسپورٹ کے بارے میں علم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے۔

سٹیفن نے کہا 'میں نے وضاحت کی ہے کہ میں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوا اور وہیں میری پرورش ہوئی۔ پھر بھی وہ مجھے برطانوی شہری ہی کہتے رہے۔ میں خوفزدہ تھا۔'

تین قیدیوں کو 17 جہادی لے جا رہے تھے جو کلاشنکوف، رائفلز اور دستی بموں سے لیس تھے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ 'ابتدائی دنوں میں ہمیں ہر دو ہفتے بعد ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ لے جاتے ہوئے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے تھے اور شام کو ہمیں زنجیروں سے باندھ دیا جاتا تھا۔'

ابتدا میں ہم بھاگ جانے کے بارے میں سوچتے لیکن ہر بار اس لیے رک جاتے کہ اس سے دوسروں کی جان خطرے میں پڑ جاتی۔

سٹیفن کے والد کہتے ہیں 'ہمیں سنہ 2012 کے فروری اور مارچ تک یرغمالیوں کی رہائی کی امید تھی لیکن اسی وقت مالی میں بغاوت ہو گئی اور ہماری امید دم توڑ گئی۔'

قید کرنے والوں کی زندگی

سٹیفن

مارچ سنہ 2012 میں مالی میں حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا اور منتخب حکومت کی جگہ جہادی تنظیمیں اقتدار میں آ گئیں۔

اس شورش کے دوران یرغمال بنانے والوں سے رابطہ منقطع ہو گيا۔

لیکن جولائی میں سٹیفن اور یوحان کا ایک ویڈیو یوٹیوب پر نظر آيا۔ ان کی داڑھی بڑھ چکی تھی اور ان کے پیچھے چار نقاب پوش مسلح افراد کھڑے تھے۔

سٹیفن نے ویڈیو میں کہا تھا 'مجھے اپنے ملک سے یہ خط ملا ہے۔ میں یہاں صحت مند ہوں اور ہمارے ساتھ اچھا سلوک ہو رہا ہے۔'

یہ خط ان کے خاندان کی طرف سے لکھا گيا تھا لیکن انھیں وہ کبھی پڑھنے کے لیے نہیں دیا گیا۔

سٹیفن کا کہنا ہے کہ 'مجھے ایسا لگا کہ میں نے کیمرے کے سامنے جھوٹ بولا۔'

قیدیوں کے اس قسم کی کم از کم 15 ویڈیوز بنائیں گئیں لیکن ان میں سے کچھ ویڈیوز ہی بیرونی دنیا تک پہنچ سکیں۔

مذہب نے صحرا میں سہارا دیا

مالی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سٹیفن نے بتایا کہ انھوں نے دانستہ طور پر اپنے اغوا کاروں کے ساتھ اچھے رشتے بنا کر رکھے۔ ان میں سے بعض چلے جاتے تھے، بعض مارے جاتے تھے۔ کچھ نئے لوگ آ جاتے تھے۔

سٹیفن نے قید میں چھ ماہ گزارنے کے بعد ہی اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کے مطابق 'میں نے فیصلہ کیا کہ میں ریگستان میں ایک بہت متوازن ذہنیت والے شخص کے طور پر آیا تھا اور یہاں سے ایک غصہ ور اور لوگوں سے متنفر فرد کے طور پر واپس نہیں جاؤں گا۔'

وہ کہتے ہیں 'میں مسیحی ہوں، اور دونوں مذاہب میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں، ریگستان میں مذہب نے میری مدد کی۔'

سجاک اور یوحان نے بھی مذہب تبدیل کر لیا۔ ایسا کرتے ہی انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک میں نمایاں تبدیلی دیکھی تھی۔

سٹیفن کے والد میلکم تصویر کے کاپی رائٹ STEPHEN MCGOWN
Image caption سٹیفن کے والد میلکم

اغوا کاروں نے یرغمالیوں کو عربی کے کچھ الفاظ سکھانے کی کوشش کی مگر مقامی زبان 'ہنسیا' نہیں سکھائی جسے وہ اپنی گفتگو میں استعمال کرتے تھے۔

اس کے بعد سٹیفن کی والدہ کا ایک خط موصول ہوا جسے انھیں پڑھنے دیا گیا۔

اس خط میں لکھا تھا ’تمام دوست مل کر رہائی دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

صدر کی اپیل پر فرانسیسی فوجی سنہ 2013 میں مالی آگئے اور جلد ہی انھوں نے گاؤ اور ٹمبکٹو پر قبضہ کرلیا۔

یہ وہ وقت تھا جب سٹیفن کا خیال تھا کہ وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہو پائيں گے۔

جہادی قیدیوں کو لے کر تیزی سے اپنی جگہ تبدیل کر رہے تھے۔ ایسے میں کسی بھی معاہدے کی امید دم توڑتی نظرآرہی تھی۔

القاعدہ کے جنگجو تصویر کے کاپی رائٹ Al JAZEERA

اسی دوران یوحان نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن دوسرے ہی دن اسے پکڑ لیا گیا۔ اب تینوں قیدیوں کے سامان چھین لیے گئے لیکن یوحان کا سامان واپس کر دیا گيا۔

سجاک اور یوحان پر سازش کا الزام تھا۔

ایک سال بعد سجاک کو سٹیفن اور یوحان سے علیحدہ کردیا گیا۔ ایسے میں سٹیفن کو ہر وقت رہائی کی امید لگی رہتی۔

انھیں ڈر تھا کہ ان کا خاندان انھیں بھول جائے گا اور ان کی بیوی نئی زندگی شروع کر لےگی۔

آزادی کے لیے جدوجہد

القاعدہ کے جنگجو تصویر کے کاپی رائٹ AL JAZEERA

بہرحال کیتھرین نے سٹیفن کی رہائی کی اپنی سی کوششیں جاری رکھیں۔ سٹیفن کے والد بھی سرکاری اداروں سے رہائی کے لیے درخواست کر رہے تھے۔

سٹیفن کے والد بتاتے ہیں کہ 'ان میں سے ایک نے دعوی کیا کہ وہ ریڈ کریسنٹ میں کسی کو اچھی طرح جانتا ہے جس نے میرے بیٹے سے بات کی تھی لیکن زیادہ پیسے مانگ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ میں انھیں پیسے دوں گا اگر وہ مجھے اپنے بیٹے کے کتے کا نام بتا دیں۔ یہاں وہ پھنس گئے۔‘

میلکم نے ایک تنظیم گفٹ آف گیورز سے بھی رابطہ کیا جس نے ایک جنوبی افریقہ کے باشندے کی رہائی کے لیے یمن میں القاعدہ کے ساتھ کامیاب مزاکرات کیے تھے۔

ادارے کے بانی ڈاکٹر امتیاز سليمان نے بھی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

ایسا لگا کہ یرغمال بنانے والے سمجھوتہ چاہتے ہیں!

سٹیفن اور ان کی اہلیہ کیتھرن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جون سنہ 2015 میں سٹیفن کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی۔ سليمان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یرغمال بنانے والے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے جنوبی افریقہ میں ریڈیو پر اپیل کی کہ اگر مالی کا کوئی شہری ان کے لیے ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے تو سامنے آئے۔ اس اپیل کا جواب محمد ایہی ڈیکو نے دیا جسے ایک ماہ بعد مالی روانہ کر دیا گيا۔

سلیمان کا کہنا ہے کہ 'میں نے ان سے کہا کہ وہ مالی پہنچنے کا اپنا مقصد ظاہر کریں۔‘

ایک ہفتے کے بعد کسی نے ڈیکو سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسے ’صحیح جگہ تک پہنچا دیں گے۔'

سليمان نے وضاحت کی ’یہ ایک طویل عمل ہے جس میں وقت لگتا ہے، فون اور ای میل کے بجائے پیغامات لوگوں کے ذریعے پہنچتےہیں۔‘

نومبر سنہ 2015 میں ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی جس میں سٹیفن نے ایک خیراتی تنظیم کا رہائی کی کوشش کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

ویڈیو میں انھوں نے کہا 'یہ پیغام میری بیوی اور اہل خانہ کے لیے ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ سب گھر میں ٹھیک ہوں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں جلد ہی آپ سے ملوں گا۔ مجھے لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ایک تنظیم مجھے آزاد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔'

سٹیفن اور ان کی اہلیہ کیتھرن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹیفن رہائی کے بعد اپنی اہلیہ کیتھرن کے ساتھ

دراصل سٹیفن محفوظ نہیں تھے۔ ان کا وزن 15 کلو گرام کم ہو گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پٹھوں میں خلیوں کی کمی کی وجہ سے ان کی عمر 80 سال لگ رہی تھی۔

سٹیفن نے کہا 'مجھے جوڑوں میں تکلیف تھی میری ٹانگیں کمزور ہو رہی تھیں۔ ایک روز میرا گھٹنا اچانک اپنی جگہ سے ہٹ گیا، پھر مجھے اسے دباکر ٹھیک کرنا پڑا۔'

نئی ویڈیو کے بعد سليمان نے شمالی مالی میں القاعدہ کے کیمپ کے قریب رہنے والے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے مہم شروع کردی۔

خیراتی تنظیم نے وہاں کے لوگوں کو مویشی خریدنے کے ساتھ کھانا دینے اور کنواں کھودنے کا کام بھی شروع کیا۔

اس کے بعد برادری کے معمر رہنما قیدیوں کو بچانے کے لیے القاعدہ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوئے۔

لیکن کسی معاہدے سے متعلق بات چیت ایک بار پھر بند ہوگئی۔

بادل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سلیمان کا کہنا ہے کہ 'القاعدہ کے رہنما یرغمالیوں کو آزاد کرانے پر رضامند تھے لیکن تنظیم کے نوجوانوں کا موقف تھا کہ یہ درست عمل نہیں کیونکہ اس سے نظیر طے ہو جائے گی۔‘میلکم نے سٹیفن کی رہائی کے لیے کوشش جاری رکھیں۔ اس دوران وہ پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا اپنی بیوی کی دیکھ بھال بھی کر رہے تھے۔ وہ اب پوری طرح سے مشین سے اکسیجن لے رہی تھیں۔

میلکم کہتے ہیں کہ 'یہ بہت مشکل تھا لیکن میں نے پوری طرح ان کی دیکھ بھال کی۔'

انھوں نے جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کو ایک خط لکھا جس میں اپنی بیوی کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان سے مدد کی درخواست کی۔

میلکم کہتے ہیں 'میں سوچتا ہوں کہ انھوں نے خط پڑھ کر سوچا کہ انھیں رہائی کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔'

دسمبر سنہ 2016 میں سٹیفن کو صحرا میں جنوبی افریقہ کی حکومت کا ایک خط موصول ہوا۔

سٹیفن کا کہنا ہے کہ 'مجاہدین خط کے بارے میں بہت پرجوش تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ خط میں کیا لکھا ہے۔'

اس خط میں لکھا تھا کہ سٹیفن کی والدہ بہت بیمار ہیں اور حکومت نے القاعدہ سے انھیں رہا کرنے کے لیے رحم کی اپیل کی تھی۔

لیکن مجاہدین کو یہ جان کر مایوسی ہوئی۔

جب رہائی کی بات مذاق لگنے لگی

صحارا صحرا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کے بعد جولائی سنہ 2017 میں ایک دن روزے کے بعد سٹیفن کو بتایا گیا کہ یوحان کیمپ میں نہیں ہے۔

انھیں رہا کر دیا گيا تھا۔

سٹیفن نے کہا کہ 'میں خوش تھا کیونکہ اس سے پتہ چل رہا تھا کہ ثالثی ہو سکتی ہے اور لوگوں کو آزاد کرایا جاسکتا ہے۔

ایک سال قبل سٹیفن اور یوحان نے افواہ سنی تھی کہ سجاک کو فرانسیسی فوجیوں نے رہا کروا لیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ سٹیفن اب آخری قیدی تھے۔

اس کے بعد انھیں جولائی میں بتایا گیا تھا کہ وہ بھی رہا کر دیے جائیں گے۔

سٹیفن نے بتایا 'مجھے یقین نہیں آرہا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اس کے کتنے امکانات ہیں؟ انھوں نے بتایا 60 فیصد۔‘

انھوں ے سوچا 'میں نے تو 90 فیصد امکانات کو بھی نا ممکن ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔'

لیکن چند دنوں بعد وہ ایک گاڑی میں ڈھائی روز تک ایک تھکا دینے والا سفر کرتے رہے۔

صحارا صحرا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بالآخر وہ کار گاؤ سے پہلے رکی۔

سٹیفن نے بعد میں پریس کانفرنس میں بتایا 'میرا ڈرائیور میری طرف مڑا اور کہا، آپ آزاد ہیں، آپ جا سکتے ہیں۔'

سٹیفن نے سوچا کہ ڈرائیور مذاق کر رہا ہے۔

سٹیفن کے مطابق 'اس نے کہا، اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں تو آپ اپنے پیروں پر چل کر جا سکتے ہیں' اور میں نے سوچا، شاید وہ میرا مذاق نہیں اڑا رہا ہے۔'

اسی وقت دوسری گاڑی آئی۔ سٹیفن کو اس نئی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد سٹیفن نے محسوس کیا کہ وہ آزاد ہوگئے ہیں۔

سٹیفن نے بتایا 'یہ بہت ہی خاص لمحہ تھا۔ اسے سمجھنا مشکل تھا کیونکہ گذ شتہ ساڑھے پانچ سالوں میں بہت نشیب و فراز آئے تھے۔'

والد کے گلے لگ کر سٹیفن رو پڑے

سٹیفن اپنے والد میلکم اور اہلیہ کیتھر اور اہل خانہ کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹیفن اپنے والد میلکم، اہلیہ کیتھرین اور اہل خانہ کے ساتھ

سٹیفن 29 جولائی 2017 کو طبی معائنے کے بعد جوہانسبرگ واپس آگئے۔ انھیں واپس آتے ہوئے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی آزادی نہیں دی گئی۔ اس لیے وہ فکر مند ہو گئے کہ گھر پہنچنے کے بعد انھیں کیا دیکھنے کو ملے گا۔

وہ کہتے ہیں 'میں نے ساتھ بیٹھے لوگوں سے پوچھا، کیا گھر میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے؟ ان کا جواب تھا، کیا صحرا سب اچھا نہیں تھا؟'

جب وہ گھر سے صرف 10 منٹ دور تھے تو انھیں بتایا گیا کہ ان کی والدہ کی دو ماہ قبل وفات ہو چکی ہے۔

سٹیفن نے بتایا کہ 'مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آيا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ مجھے کیسا محسوس کرنا چاہیے، کیا مجھے اپنی آنکھوں میں آنسو لانے چاہییں؟'

اگرچہ سٹیفن کو کئی دنوں قبل ہی رہا کرالیا گیا تھا لیکن گھر پہنچنے سے ایک گھنٹے پہلے ان کے والد اور اہلیہ کو ان کی رہائی کیخبر دی گئی۔

سٹیفن کہتے ہیں کہ 'میں نے کار سے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، میری آنکھوں میں آنسو تھے اور میں رونے لگا۔ یہ بہت خوبصورت احساس تھا، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔'

میں نے انھیں گلے لگا لیا اور مجھے طاقت کا احساس ہوا۔

بیوی کو دیکھتے ہی آنکھیں نم ہوئیں

سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ AL JAZEERA

اس کے بعد سٹیفن گھر میں داخل ہوئے جہاں کیتھرین انھیں ایئرپورٹ لے جانے کے لیے کپڑے پیک کررہی تھیں۔

سٹیفن کہتے ہیں کہ 'وہ بدحواسی میں میرے بيگ کے بارے میں بات کرتی ہوئی آئی اور اسے معلوم نہیں تھا کہ میں گھر پہنچ چکا تھا۔'

اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو ڈھک کر وہ روتے روتے زمین پر بیٹھ گئی۔

سٹیفن نے بتایا کہ 'وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ میں حیران تھا۔ اسے دیکھنا بے حد خوبصورت احساس تھا۔'

کیتھرین نے کہا 'وہ بہت مختلف نظر آرہے تھے لیکن ان کے چہرے پر اب بھی وہی بڑی سی مسکراہٹ موجود تھی۔'

کیتھرین کے مطابق 'ان کے بال لمبے اور گھنگریالے تھے جس کا میں نے تصور نہیں کیا تھا۔ اور وہ ریگستانی علاقوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھے جو مجھے عجیب لگ رہے تھے۔'

کیتھرین نے سلیمان کو فون پر بتایا کہ سٹیفن گھر پہنچ گئے ہیں۔

سلیمان کا کہنا ہے کہ 'میں بہت خوش ہوں کیونکہ میں نے گذشتہ کئی سالوں کے دوران اس خاندان کا دکھ درد دیکھا ہے۔'

سٹیفن کو پتہ نہیں ہے کہ ان کی رہائی کیسے ہوئی تھی لیکن نیویارک ٹائمز میں شائع خبر کے بارے میں انھیں علم تھا۔ اس خبر کے مطابق جنوبی افریقہ کی حکومت نے ان کی رہائی کے لیے 30 لاکھ پونڈ ادا کیے تھے۔

تاہم، جنوبی افریقہ کی حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔

سٹیفن کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوا لیکن وہ ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ان کی رہائی کے لیے کوشش کی تھی۔

نیا چیلنج

سٹیفن اپنے والد میلکم کے ساتھ

وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے پرانی زندگی میں واپس آنا ایک چیلنج ہے۔

سٹیفن بتاتے ہیں کہ 'میں اپنے والد، اہلیہ اور بہن کو دیکھتا ہوں تو لگتا کہ کل ہی انھیں دیکھا تھا۔ لیکن ہمارے درمیان چھ سالوں کی خلیج حائل ہے۔'

سٹیفن کو روزانہ کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں پرانے بینک اکاؤنٹس کو کارآمد بنانا اور سورج سے متاثر ہونے والی بینائی اور کمر کے علاج کے لیے پیسہ جمع کرنا شامل ہے۔ لیکن انھیں نفسیاتی تبدیلیوں پر حیرت ہے۔

رہا ہونے کے بعد ان کی زندگی میں آنے والی خوشی اب 'تصورات اور جذبات کے بھنور' میں پھنس چکی ہے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی اس سے چھٹکارہ پا لیں گے۔

سٹیفن کا خیال ہے کہ اب وہ اس سے نکلنے کی حالت میں ہیں۔

گذشتہ کئی سالوں تک صحرا میں رہنے کے بعد وہ اب معلومات کے انبار کو سمجھنے میں لگے ہیں اور لوگوں سے گفتگو کرنے میں انھیں دقت ہوتی ہے۔

سٹیفن کی انگریزی بھی زنگ آلود ہو چکی ہے۔

سٹیفن اپنے والڈ اور ڈاکٹر سلیمان کے ساتھ
Image caption سٹیفن اپنے والڈ اور ڈاکٹر سلیمان کے ساتھ

وہ کہتے ہیں کہ 'صحیح الفاظ کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔'

سٹیفن کے خدشات کے باوجود ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی وہی شخص ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'وہ اب بھی مجھے ہنساتے ہیں جو مجھے بے حد پسند ہے۔'

سٹیفن کہتے ہیں کہ وہ روزمرہ کی چیزوں کی بہت قدر کرتے ہیں، جسے بجلی چمکنے پر گھر کے اندر جانا اور دھوپ میں درختوں کی چھاؤں میں جانا۔

وہ خاندان سے گھلنے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مالی میں گزرے ایام کے دوران ان کے ایک بھانجا اور ایک بھانجی پیدا ہوئے جن سے وہ مل چکے ہیں۔ سٹیفن اب اپنے والد کے ساتھ سائیکلنگ کے ذریعے کسی سفر پر جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

سٹیفن کہتے ہیں کہ 'میں ان سے سائیکل چلوانا چاہتا ہوں کیونکہ وہ ان کی صحت کے لیے اچھا ہوگا، انھیں اپنے کاروبار، میری والدہ کی بیماری اور میری رہائی سے نمٹنا پڑا ہے لیکن وہ اب بھی بہت مثبت شخص ہیں۔'

جب سٹیفن صحرا میں تھے تو انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک خول میں بند انسان کے طور پر زندگی نہیں گزاریں گے۔جنوبی افریقہ آنے کے بعد بھی انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔ سٹیفن کہتے ہیں کہ 'میں ایک موٹی جلد والا شخص نہیں بننا چاہتا، اگر لوگ مشکلات کا شکار ہوں تو میں زیادہ سمجھدار اور حساس ہو جاتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں اپنے اطراف ہونے والے واقعات سے بے خبر ہوکر بے خبر زندگی نہیں گزاروں گا۔‘

۔

اسی بارے میں