’قابل یقین شواہد موجود ہیں کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوا‘

امریکہ، افغانستان
،تصویر کا کیپشن

ممکنہ طور پر طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی پراسیکیوٹر افغان جنگ میں مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر باضابطہ تحقیقات کرانے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

اپنے بیان میں پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا نے کہا کہ ’قابل یقین شواہد موجود ہے کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوا۔‘

توقع کی جا رہی ہے کہ طالبان، افغان حکومت اور امریکی فوج کی سنہ 2003 کے بعد سے اب تک ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے پہلے ابتدائی تحقیقات ایک دہائی تک جاری رہی تھیں۔

ان تحقیقات میں شہریوں پر دانستہ حملے، قید اور ماورائے عدالت قتل جیسے جرائم شامل تھے۔

فاتو بینسوڈا کا کہنا ہے کہ صورتحال کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ تحقیقات کرنے کے لیے تمام مطلوبہ قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔‘

انھوں نے جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے تحقیقات کا آغاز کرنے کی اجازت مانگی۔ اگر ان کی درخواست منظور ہو گئی تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی امریکی کو مبینہ طور پر ہونے والے جنگی جرائم میں ذمہ دار ٹھرایا جا سکے گا۔

باوجود اس کے کہ امریکہ آئی سی سی کا رکن نہیں فاتو بینسوڈا اس کی تحقیقات کریں گے کیونکہ افغانستان آئی سی سی کا رکن ہے۔ اس وجہ سے عدالت اپنے کسی بھی ممبر ملک کی حدود میں ہونے والے جرائم کا احاطہ کر سکتی ہے چاہے مجرم کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتا ہو۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بینسوڈا نے بتایا کہ وہ افغان جنگ میں تمام فریقین کے الزامات کو دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کریں گے۔

،تصویر کا کیپشن

افغانستان میں موجود امریکی فوجی اہلکار اپنی ذمہ داریاں اب بھی نبھا رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کی اجازت ملی تو اس سے پھر دنیا میں جولائی 2002 کے بعد مبینہ طور پر ہونے والے جنگی جرائم جنھیں افغانستان کی صورتحال سے بہت قریبی طور پر جوڑا جاتا ہے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ’افغانستان میں لاتعداد افرد ایسے سنگین جرائم شکار ہوئے جنھیں سالوں سے سزا نہیں ہو سکی۔‘

،تصویر کا کیپشن

افغان صوبے پکتیکا میں ملٹری کے تربیتی مرکز پر خودکش حملے کے بعد کے مناظر

سنہ 2016 میں بھی آئی سی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس پر یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں خفیہ قید خانے بنا رکھے تھے جنھیں سی آئی اے چلا رہی تھی۔