’زندگی کو لاحق خطرات‘ پر لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کا سعودی عرب میں مستعفی ہونے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعد حریری کے والد رفیق حریری سال دو ہزار پانچ میں ایک کام بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے

لبنان کے وزیرِاعظم سعد حریری نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی ہے۔

سعد حریری نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ایک نیوز کانفرنس میں اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔

سعد حریری کے والد رفیق حریری سال دو ہزار پانچ میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ملک میں شروع ہونے والے سیڈر انقلاب یا انقلاب دیار میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

حریری قتل: حزب اللہ کے ارکان پر الزام

سعد حریری نے نیوز کانفرنس میں کہا' ہم ایک ایسی صورتحال سے گذر رہے ہیں جیسی کہ رفیق حریری کے قتل سے پہلے تھی۔ میں نے اپنے قتل کی درپردہ کوششوں کو محسوس کیا ہے اور ان کی بنیاد شہید رفیق حریری کے وہ اصول اور انقلاب سیڈر کی اقدار ہیں جن پر میں یقین رکھتا ہوں۔ اور کیونکہ میں لبنان کے لوگوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی ایسی کوئی بات مجھے قابلِ قبول ہے جو ان اقدار کی نفی کرتی ہو اس لیے میں لبنانی حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ ‘

’ میں نے محسوس کر لیا ہے کہ میری زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیا پوشیدہ منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔‘

سعد حریری نے نیوز کانفرنس میں ایران پر شدید تقنید کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا کہ یہ کئی ممالک میں 'خوف اور تباہی' کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سعد حریری سال 2009 سے 2011 تک لبنان کے وزیراعظم رہے تھے جبکہ گذشتہ برس نومبر میں بھی انھوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔

سعد حریری نے اس کے ساتھ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کی لبنان میں اچھی خاصی طاقت ہے۔

خیال رہے کہ سعد حریری نے حالیہ دنوں ایران مخالف سعودی عرب کے متعدد دورے کیے ہیں۔

سعد حریری کے فیصلے میں سعودی عرب کا اثرو رسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بی بی سی کے عرب امور کے ایڈیٹر سبیسٹیئن اشر کے مطابق سعد حریری کا استعفیٰ ایک بڑا سرپرائز ہے اور اس نے لبنان میں اکثر اوقات سیاسی عدم استحکام کا شکار کا رہنے والے ماحول میں ایک نئی غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

سعد حریری کا سیاسی کریئر کافی الجھا ہوا تھا جس میں ایک طرف لبنان تو دوسری جانب ان کے خاندان کا اہم اتحادی سعودی عرب تھا۔

ان کا استعفیٰ حالیہ دنوں سعودی عرب کے کیے جانے والے دوروں کے بعد آیا ہے جس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ سعودی عرب کے اثر و رسوخ نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔

یقیناً ان کی ایران اور حزب اللہ پر جارحانہ تنقید جس سے ان کی اپنی ملیشیا نے بیروت کی گلیوں میں ایک ناکام جنگ لڑی تھی، سعودی عرب کی ان دونوں کے متعلق پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں