سعودی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ’ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض ایئر پورٹ پر کیے جانے والا مبینہ میزائل حملہ 'ناکام' بنا دیا ہے۔

ال عریبیہ نے سعودی ایئر ڈیفنس فورسز کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت ریاض کے شمال مشرق میں اس میزائل کو روکا۔

یمن میں حوثی باغیوں سے منسلک ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ میزائل ایئر پورٹ کی جانب داغا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مکہ پر مبینہ میزائل حملے کی کوشش کی مذمت

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار: سعودی عرب

سرکاری نیوز چینل ال اخباریہ کا کہنا ہے کہ میزائل ’محدود پیمانے‘ کا تھا اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب سے حوثی ٹی وی چینل ال مسیراہ کے مطابق : ’یہ میزائل دور فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسے شاہ خالد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی جانب داغہ گیا۔‘

خیال رہے کہ سعودی فورسز کی جانب سے رواں سال یمن میں حوثی باغیوں کی طرف سے داغے جانے والے میزائیلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے کئی واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔

یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں سعودی اتحاد 2015 میں شریک ہوا تھا۔

گذشتہ سال اکتوبر 2016 میں سعودی عرب کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کو مکہ کے قریب مار گرایا۔

اسلامی ممالک کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ کی جانب مبینہ طور پر میزائل داغے جانے کے واقعے کی مذمت کی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب نے ایران پر ایک مرتبہ پھر حوثی باغیوں کی حمایت اور مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یمن میں قیامِ امن کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ بیان ریاض میں سعودی اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں سامنے آیا تھا۔

اس اجلاس میں مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فوجی حکام بھی شریک تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں