سعودی عرب کی کرپشن کے خلاف جنگ، 11 شہزادے اور درجنوں وزیر گرفتار

محمد بن سلمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان موجود ہے

سعودی عرب میں نئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گیارہ شہزادوں، چار موجودہ اور ’درجنوں‘ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔

یہ گرفتاریاں اس اینٹی کرپشن کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔

سعودی نشریاتی ادارے العریبیہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنیچر کی شام ان تمام افراد کو محمد بن سلمان کے حکم پر گرفتار کیا گیا۔ تاہم گرفتار کیے جانے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گرفتار ہونے والوں میں شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں

اہم وزارتوں کی تبدیلی

سعودی سرکاری ٹی وی کے مطابق سنیچر کو جاری ہونے والے شاہی فرمان میں بتایا گیا ہے کہ دو اہم وزارتوں داخلی سکیورٹی اور معیشت کے لیے نئے وزیر منتخب ہوئے ہیں۔

شہزادہ متعب بن عبد الله سے نیشنل گارڈز کی وزارت لے کر خالد بن ایاف کو دی گئی ہے جبکہ عادل فقیہہ سے معیشت کے امور کا قلمدان لے کر ولی عہد کے نائب محمد تویجری کو دے دیا گیا ہے۔

اس پیش رفت کے ذریعے ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع، سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو اس سے قبل سعودی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔

نئے سعودی ولی عہد کے بارے میں پانچ اہم حقائق

سعودی قیادت میں ڈرامائی انقلاب

'سعودی شہزادیاں قید میں ہیں'

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے سے ہی انسداد کرپشن کے لیے موجود کمیٹی کا مستقبل کیا ہوگا۔ یہ کمیٹی عرب دنیا میں 2011 میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاج کے موقع پر بنائی گئی تھی۔

شہزادہ متعب بن عبداللہ

تفصیلات کے مطابق شہزادہ متعب بن عبداللہ کا نام جو کہ شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں، محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے سے قبل ولی عہد بننے کے لیے گردش کر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہزادہ متعب شاہ عبداللہ کی نسل سے وہ آخری شہزادے تھے جنھیں سعودی حکومت میں اعلیٰ عہدہ ملا

ان کے پاس داخلی سکیورٹی کے لیے نیشنل گارڈز کی وزارت تھی۔ مختلف قبائلی یونٹس سے بنی اس سکیورٹی فورس کی تشکیل ان کے والد نے ہی کی تھی۔ یہ امور پانچ دہائیوں تک ان کے والد نے سنبھالے تھے۔ شہزادہ متعب شاہ عبداللہ کی نسل سے وہ آخری شہزادے ہیں جنھیں سعودی حکومت میں اعلیٰ عہدہ ملا۔

اب یہ عہدہ خالد بن ایاف کے پاس ہے۔

شہزادہ فقیہہ

عادل فقیہہ سے بھی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی ہیں جو کہ سنہ 2015 سے معیشت اور منصوبہ بندی کے وزیر تھے۔ انھیں سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات کے دور میں لایا گیا تھا۔

انھوں نے اس سے قبل وزیر برائے محنت اور افرادی قوت، صحت اور جدہ کے میئر کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

شہزادہ فقیہہ کو اس وقت کاروباری حلقوں کی جانب سے بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انھوں نے سعودی شہریوں کے لیے نوکری کے مواقع بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے غیر ملکی ورکرز کے لیے کوٹہ مخصوص کیا تھا۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے سعودی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے عادل فقیہہ نے نیشنل ٹرانسفورمیشن پلان اور نجکاری کا عمل شروع کیا تھا۔

عموماً سابق وزرا کو پھر مشاورتی کردار میں شامل کیا جاتا ہے تاہم ابھی واضح نہیں کہ عادل فقیہہ کا آئندہ کیا کردار ہوگا۔ ان کی جگہ ولی عہد کے نائب التجیوری نے لی ہے۔ وہ اس سے قبل فضائیہ میں پائلٹ تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی بینک ایچ ایس بی سی کے آپریشنز کی سربراہی بھی کی۔ انھوں نے ملک کے 200 بلین اثاثوں کی نجکاری بھی کی تھی۔

اینٹی کرپشن کمیٹی

بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اپنی طاقت کو مستحکم کرتے ہوئے اصلاحاتی پروگرام کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔

کمیٹی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 2009 میں جدہ میں آنے والے سیلاب کی فائل بھی دوبارہ کھول رہی ہے جبکہ کورونا وائرس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جون 2017 میں شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے علاوہ وزیرِ داخلہ کے عہدے سے بھی ہٹا ددیا گیا تھا

سنیچر کو شاہ سلمان کی جانب سے جاری ہونے والے شاہی فرمان کے مطابق اینٹی کرپشن کمیٹی کی سربراہی شاہ سلمان نے کی جبکہ ان کے ساتھ مانیٹرنگ اینڈ انویسٹی گیشن کمیشن کے چیئرمین، نیشنل اینٹی کرپشن اتھارٹی کے سربراہ، آڈٹ بیورو کے چیف، اٹارنی جنرل اور سٹیٹ سکیورٹی کے سربراہ بھی شریک تھے۔

اس نئی کمیٹی کے پاس کرپشن کرنے والے افراد کے خلاف تحقیقات کرنے، انھیں گرفتار کرنے اور ان پر سفری پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حق بھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں