’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی حکومت نے ہفتے اور اتوار کی شب کو 11 شہزادے، چار حاضر وزرا، اور متعدد سابق وزرا کو حراست میں لینے کا حکم دے دیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر سعودی عرب بڑے ٹرینڈز میں شامل ہو گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک، ارب پتی شہزادے ولید بن طلال بھی شامل ہیں جو مغربی ممالک میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

سعودی ولی عہد کے بارے میں پڑھیے جن کو ملک میں تبدیلیاں لانے کا داعی قرار دیا جا رہا ہے

* کرپشن کے خلاف جنگ، گیارہ سعودی شہزادے گرفتار

* نئے سعودی ولی عہد کے بارے میں پانچ اہم حقائق

* سعودی قیادت میں ڈرامائی انقلاب

ہفتے کی شام کو سعودی عرب پہلے سے ہی خبروں کا حصہ بن گیا تھا جب سعودی عرب نے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض ایئر پورٹ پر کیے جانے والا مبینہ میزائل حملہ 'ناکام' بنا دیا ۔

اس کے بعد ہفتے کی ہی رات آنے والی دوسری خبر سے مزید ہل چل مچ گئی جب سعودی شاہ سلمان نے نیشنل گارڈ کے وزیر شہزادہ متعب بن عبداللہ اور نیوی کمانڈر اڈمرل عبداللہ بن سلطان بن محمد السلطان کو بغیر کسی وضاحت کے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔

واضح رہے کہ ہفتے کو ہی شاہ سلمان نے شاہی فرمان جاری کیا تھا جس کے مطابق ملک میں انسداد بدعنوانی کے لیے ایک نئی کمیٹی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں تشکیل دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ان صارف کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد کی تصاویر

العریبیہ نے اس سال مئی میں شہزادہ محمد بن سلمان کا انٹرویو نشر کیا تھا جس میں شہزادے نے کہا تھا کہ 'ہمیں کرپشن سے پریشانی ہے اور اب جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا اسے سزا ملے گی۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، چاہے وہ شہزادہ ہو یا وزیر۔'

شہزادوں اور وزرا کی گرفتاری کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ #الملك_يحارب_الفساد ، یعنی 'بادشاہ کی کرپشن کے خلاف جنگ' پھیل گیا۔ اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین نے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور امید کی کہ اس سے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک صارف نے لکھا کہ 'پانچ نومبر کی رات کرپشن کے خلاف جنگ کی رات ہے۔ اور کرپشن کرنے والوں کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ '

ایک اور صارف نے لکھا کہ ' ہماری صبح مختلف ہوگی، خاص اور انصاف پسند ہوگی۔ ہمارے بادشاہ نے سال 2017 کو تاریخی سال بنا دیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن اس فیصلے پر تنقید کرنے والے بھی تھے جن میں سے ایک صارف عبداللہ نے لکھا 'سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جو ایک 32 سالہ بچے کو حکومت کرنے دیتا ہے جسے حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔'

ایک اور صارف دانا عبدالرحمان نے اس سلسلے کو 'بڑے پیمانے پر جاری شطرنج کی بازی' سے مشابہت دی تو دوسری جانب صہیب جمال ناصر نامی صارف نے سیاسی گٹھ جوڑ اور سازشوں پر مبنی ٹی وی سیریز 'گیم آف تھرونز اور ’ہاؤس آف کارڈز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'میں یہ کہنے پر شاید جہنم بدر کر دیا جاؤں لیکن آج کی رات ہونے والے واقعات نے مجھے یہ یاد دلا دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گرفتاریاں ملک کے ولی عہد کی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی ہیں جو 32 سال کی عمر میں ملک کے سب سے بااثر شخص بن چکے ہیں۔

ال عریبیہ کے مطابق محمد بن سلمان کی قیادت میں بننے والی انسداد کرپشن کمیٹی کے پاس اس بات کی طاقت ہے کہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی شخص کو حراست میں لے سکتے ہیں، ان کے سفر کرنے پر پابندی لگا سکتے ہیں اور ان کی جائیداد ضبط کر سکتے ہیں جن پر انھیں بدعنوانی کرنے کا شک ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں