’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘

  • عابد حسین
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سعودی

سعودی حکومت نے ہفتے اور اتوار کی شب کو 11 شہزادے، چار حاضر وزرا، اور متعدد سابق وزرا کو حراست میں لینے کا حکم دے دیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر سعودی عرب بڑے ٹرینڈز میں شامل ہو گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک، ارب پتی شہزادے ولید بن طلال بھی شامل ہیں جو مغربی ممالک میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

سعودی ولی عہد کے بارے میں پڑھیے جن کو ملک میں تبدیلیاں لانے کا داعی قرار دیا جا رہا ہے

ہفتے کی شام کو سعودی عرب پہلے سے ہی خبروں کا حصہ بن گیا تھا جب سعودی عرب نے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض ایئر پورٹ پر کیے جانے والا مبینہ میزائل حملہ 'ناکام' بنا دیا ۔

اس کے بعد ہفتے کی ہی رات آنے والی دوسری خبر سے مزید ہل چل مچ گئی جب سعودی شاہ سلمان نے نیشنل گارڈ کے وزیر شہزادہ متعب بن عبداللہ اور نیوی کمانڈر اڈمرل عبداللہ بن سلطان بن محمد السلطان کو بغیر کسی وضاحت کے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔

واضح رہے کہ ہفتے کو ہی شاہ سلمان نے شاہی فرمان جاری کیا تھا جس کے مطابق ملک میں انسداد بدعنوانی کے لیے ایک نئی کمیٹی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں تشکیل دی گئی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

ان صارف کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد کی تصاویر

العریبیہ نے اس سال مئی میں شہزادہ محمد بن سلمان کا انٹرویو نشر کیا تھا جس میں شہزادے نے کہا تھا کہ 'ہمیں کرپشن سے پریشانی ہے اور اب جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا اسے سزا ملے گی۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، چاہے وہ شہزادہ ہو یا وزیر۔'

شہزادوں اور وزرا کی گرفتاری کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ #الملك_يحارب_الفساد ، یعنی 'بادشاہ کی کرپشن کے خلاف جنگ' پھیل گیا۔ اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین نے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور امید کی کہ اس سے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'پانچ نومبر کی رات کرپشن کے خلاف جنگ کی رات ہے۔ اور کرپشن کرنے والوں کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ '

ایک اور صارف نے لکھا کہ ' ہماری صبح مختلف ہوگی، خاص اور انصاف پسند ہوگی۔ ہمارے بادشاہ نے سال 2017 کو تاریخی سال بنا دیا ہے۔'

لیکن اس فیصلے پر تنقید کرنے والے بھی تھے جن میں سے ایک صارف عبداللہ نے لکھا 'سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جو ایک 32 سالہ بچے کو حکومت کرنے دیتا ہے جسے حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔'

ایک اور صارف دانا عبدالرحمان نے اس سلسلے کو 'بڑے پیمانے پر جاری شطرنج کی بازی' سے مشابہت دی تو دوسری جانب صہیب جمال ناصر نامی صارف نے سیاسی گٹھ جوڑ اور سازشوں پر مبنی ٹی وی سیریز 'گیم آف تھرونز اور ’ہاؤس آف کارڈز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'میں یہ کہنے پر شاید جہنم بدر کر دیا جاؤں لیکن آج کی رات ہونے والے واقعات نے مجھے یہ یاد دلا دیا۔'

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گرفتاریاں ملک کے ولی عہد کی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی ہیں جو 32 سال کی عمر میں ملک کے سب سے بااثر شخص بن چکے ہیں۔

ال عریبیہ کے مطابق محمد بن سلمان کی قیادت میں بننے والی انسداد کرپشن کمیٹی کے پاس اس بات کی طاقت ہے کہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی شخص کو حراست میں لے سکتے ہیں، ان کے سفر کرنے پر پابندی لگا سکتے ہیں اور ان کی جائیداد ضبط کر سکتے ہیں جن پر انھیں بدعنوانی کرنے کا شک ہو۔