ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ میں فائرنگ کا تیسرا بڑا واقعہ

چرچ تصویر کے کاپی رائٹ KSAT

امریکی ریاست ٹیکساس میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک چرچ میں مسلح شخص کی فائرنگ سے کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ولسن کاؤنٹی میں سدرلینڈ سپرنگز کے فرسٹ بیپٹسٹ چرچ میں فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہاں اتوار کے روز کی عبادات کی جا رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حملہ آور کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ حملے کے بعد ہلاک ہو گیا ہے۔ حملہ آور نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے حملہ کیا تھا۔

گورنر گریگ ایبٹ نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکساس کی تاریخ کی فائرنگ کا بدترین واقعہ ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو اس وقت درد میں ہیں یہ ان کے لیے طویل کرب ہے۔‘

سان اینٹونیو ایف بی آئی برانچ کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکار تعینات تھے تاہم مسلح شخص کی جانب سے اس قسم کے حملے کا کوئی اشارہ نہیں ملا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گورنر گریگ ایبٹ کے مطابق یہ ٹیکساس کی تاریخ کی فائرنگ کا بدترین واقعہ ہے۔

مسلح حملہ آور جو کہ اطلاعات کے مطابق مارا جا چکا ہے نے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے چرچ میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی تھی۔

پولیس ترجمان نے سی این این کو بتایا ہے کہ ’ابھی یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کیا یا اس نے خود اپنی جان لی۔‘

ایف بی آئی نے مزید کہا کہ اب تک صرف ایک ہی شوٹر کی اطلاعات ملی ہیں تاہم وہ مزید ممکنات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ تصاویر اور ویڈیو سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

کے ایس اے ٹی 12 کے نامہ نگار میکس میسی نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے کئی ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں