سعودی عرب کے شاہ سلمان نے تین سال میں کیا کچھ بدلا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ سلمان نے رواں برس جون میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے 57 سالہ شہزادہ محمد بن نائف کی جگہ اپنے 31 سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد مقرر کیا تھا

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان کو سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد جب تقریباً تین سال قبل اقتدار ملا تب سے انھوں نے ملکی پالیسیوں میں کچھ اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

ان تبدیلیوں میں سنیچر کو نئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گیارہ شہزادوں، چار موجودہ اور 'درجنوں' سابق وزرا کو گرفتار کر لیا جن میں اربوں ڈالر کے اثاثے رکھنے والے شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔

اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوری سنہ 2015 کو شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد 79 برس کی عمر میں تخت سنبھالنے کے بعد اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد اور نائب وزیراعظم بنایا اور اپنے بیٹے شہزادہ سلمان کو وزیر دفاع کا عہدہ دیا۔

لیکن رواں برس جون میں انھوں نے اپنے 32 سالہ بیٹے کو ولی عہد بنا دیا اور آہستہ آہستہ محمد بن نائف سے اختیارات واپس لے لیے۔

کرپشن کے خلاف جنگ، گیارہ سعودی شہزادے گرفتار

سعودی عرب معتدل اسلام کی جانب بڑھ رہا ہے

سعودی عرب کے ساحلوں پر لگژری سیرگاہیں

مارچ سنہ 2015 میں سعودی عرب یمن میں صدر منصور ہادی کی جانب سے شیعہ حوثی باغیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں میں یمن کا ساتھ دینے کے لیے اتحادی ممالک کا سربراہ بن گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے فضائی بمباری کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔

پھر اتحادی افواج نے یمن میں اپنے دستے تعینات کیے۔ انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے ان فضائی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

تہران سے تعلقات کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی کے بعد تہران میں بھی مظاہرے ہوئے

جنوری 2016 میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے الزامات میں 47 افراد کو پھانسی کی سزا دی۔ ان میں زیادہ تر تعداد تو سنی فرقے کے مسلمانوں کی تھی تاہم اس میں سعودی عرب کے ایک بڑے شیعہ عالم نمر النمر بھی شامل تھے۔

ان کی پھانسی کے نتیجے میں سعودی عرب کے اپنے علاقائی حریف ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو گئے۔ ریاض نے اپنے سفارتخانے پر حملے کے بعد تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔

معاشی اصلاحات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وژن 2030 کا ایک مقصد نجی شعبے کو تقویت دینا ہے

اپریل 2016 میں سعودی حکومت نے وژن 2030 کے نام سے ایک بڑے اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دی۔

اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ معیشت کا انحصار تیل پر ہی نہ ہو بلکہ اس کے لیے آمدن کے ذرائع کو مزید وسعت دی جائے۔ اس منصوبے میں تیل کی سرکاری کمپنی آرمکو کے حصص کی فروخت سے سرمایہ حاصل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

سعودی عرب کو سنہ 2014 کے وسط میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سبسڈی کو کم کرنا پڑا تھا اور اپنے اہم ترقیاتی منصوبوں کو معطل کرنا پڑا تھا۔

دسمبر 2016 میں سعودی عرب نے اوپیک تنظیم کے ممالک اور اس تنظیم سے باہر روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیل کی پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا۔

واشنگٹن کے ساتھ معاہدے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور امریکی صدر اقتدار سنھبالنے کے بعد اپنا پہلا دورہ رواں برس مئی میں سعودی عرب کا کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 380 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے جن میں 110 ارب ڈالر کا ہتھیار فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اس کا مقصد بظاہر سعودی عرب کو ایران اور بنیاد پرست مسلمان گروہوں سے نمٹنے میں مدد دینا تھا۔

قطر بحران

جون 2017 میں سعودی عرب اور متعدد خلیجی اتحادیوں اور مصر نے قطر سے اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو ختم کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ 'دہشت گردوں' کی مدد کرتا ہے اور وہ ایران کے بہت قریب ہو رہا ہے۔

قطر نے ان الزامات کو مسترد کیا تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے دوحہ کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کیے۔

عورتوں کے لیے مزید حقوق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی خواتین نے ڈرائیونگ کا حق حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے تک تحریک چلائی اور گذشتہ سالوں میں متعدد خواتین کو ڈرائیونگ کرنے پر گرفتار بھی کیا جا چکا ہے

دسمبر 2015 میں سعودی عرب نے پہلی مرتبہ خواتین کو نہ صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا بلکہ انھیں بطور امیدوار حصہ لینے کی اجازت بھی دے دی۔

رواں برس ستمبر میں شاہی فرمان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی اور یہ پابندی جون 2018 میں ختم ہو جائے گی۔

عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے سے کچھ ہی روز پہلے خواتین کو سٹیڈیم میں پہلی بار جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد میں حکام نے بتایا کہ خواتین کو دیگر کھیلوں کے سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت دی جائے گی تاہم اس کے لیے مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

اب بھی سعودی خواتین کو بیرون ملک جانے یا سفر کرنے کے لیے خاندان کے مرد سرپرست کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

کریک ڈاؤن

تصویر کے کاپی رائٹ ALEX BRANDON

ستمبر میں حکام نے 20 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں معروف عالم سلمان الاوادہ اور الاوادہ القارنی بھی شامل تھے اور بظاہر یہ کریک ڈاؤن حکومت پر تنقید کرنے والوں پر کیا تھا۔

معروف سعودی صحافی جمال کاشوگی نے بھی ٹویٹ کی کہ انھیں سعودی اخبار الحیات میں لکھنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے بظاہر اپنی ٹوئٹس میں اخوان المسلمین کی حمایت کی تھی۔

سرمایہ کاری، معتدل انداز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ ماہ کے آخر میں سعودی عرب کے والی عہد محمد بن سلمان نے کاروباری کانفرنس میں اربوں ڈالر مالیت کا نیا شہر اور کاروباری زون تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں 26 ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر پر محیط ہو گا۔

بتایا گیا کہ این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے سے سال دو ہزار تیس تک سعودی معیشت میں ایک سو ارب ڈالر تک حصہ ہو گا اور یہ بحرِ احمر کے ساحل اور عقابہ خلیج پر ایک پرکشش منزل ہو گا جو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑے گا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی سیاحتی ویزے کی شروعات بھی کریں گے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں 'معتدل اسلام کی واپسی' کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کر دیں گے۔'

اسی بارے میں