روسی انقلاب کے ابتدائی ایام کے دس پراپیگنڈا پوسٹرز

روس میں سنہ 1917 میں آنے والا انقلاب بڑی تبدیلی کے ساتھ ایک عظیم تخلیقی صلاحیت بھی تھا جس کی عکاسی سیاسی پوسٹرز کے ارتقا میں ہوتی ہے۔

’لون آْف فریڈم‘

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

’لون آف فریڈم‘: بورس کسٹوڈیو کی اس مشہور پینٹنگ میں ایک سپاہی کو رائفل کے ہمراہ دکھایا گیا جس میں روسیوں پر زور دے کر کہا گیا کہ وہ پہلی جنگِ عظیم کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے رقم فراہم کریں۔ اس پوسٹر کو فروری سنہ 1917 میں قرض کی تشہیر کے لیے بنایا گیا۔ اس سپاہی کی تصویر عملی طور پر اکتوبر تک بنائے جانے والے ہر پوسٹر پر موجود تھی۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

انقلابی دن: مارچ سنہ 1971 میں ماسکو کا واس سکوائر اور شہر کی پارلیمانی عمارت انقلابی ریلیوں کے لیے مرکزی پوائنٹ بن گیا۔ یہ ’ایونٹ پوسٹر‘میں انقلاب کے متعلق لوگوں کے جوش اور اس کی امید کو پیش کیا گيا جسے انھوں نے نئے عہد کے آغاز کے طور پر دیکھا تھا۔ یہ روس میں جاری جنگ کے پس منظر کے خلاف وقوع پذیر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

یہ حقیقت میں پوسٹر نہیں ہے۔ یہ ایک مستند کتابچہ ہے جو روس کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لوگ صوبائی حکومت کے ارکان اور دن کی اہم سیاسی شخصیات ہیں۔ چیئر آف دی ڈوما میخائل روڈزینکو درمیان میں نمایاں ہیں۔ حکومت کے پہلے سوشلسٹ اور مستقبل کے سربراہ، الیگزینڈر بیٹھے ہیں۔ سب سے اوپر مسلح افراد ہیں جو یہ نعرے لگاتے ہیں ’زمین اور آزادی، اور ’ آپ کو صرف جنگ میں اپنے حقوق ملیں گے‘ اس وقت یہاں بولیوویکس نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

تبدیلی کی ہوا: یہ بائیں بازو کے حامی پارس پبلشنگ ہاؤس سے آئی جس کی بنیاد مصنف میکسیم گورکی نے انقلاب سے پہلے ڈالی تھی۔ ان کے پوسٹر اکثر مشہور شاعروں اور فنکاروں جیسے ولادیمیر میوناکوسیسی اور الیکسی راڈوکوف کی جانب سے بنائے گئے۔ سب سے اوپر کی تصویر ایک سپاہی کو ظاہر کرتی ہے جو متوسط طبقے کی سرخی کے ساتھ دفاع کرتی ہے، ’یہ وہی سپاہی ہے جو دفاع کے لیے استعمال ہوتا ہے‘ دوسری انقلاب کے بعد کی تصویر میں ’زمین اور آزادی‘،جمہوریت اور جمہوریت‘ اور ’لبرٹی کیپشن ہے: ’یہ وہی ہے جو آج کا دفاع کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

ابھرتا سورج: مارچ سنہ 1917 میں زار نکولس صوبائی حکومت سے دستبردار ہو گئے۔ اس پوسٹر کا عنوان’لوگوں کی فتح کا میمو‘ ہے۔ اس پوسٹر میں ایک مسلح سپاہی کو ایک مسلح ورکر کے ہمراہ انقلابی فورسز کو عاجزی کے ساتھ طاقت منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کے پس منظر میں آپ تورائیڈ پیلس کو دیکھ سکتے ہیں جہاں سٹیٹ ڈوما کے نائبین کا اجلاس ہوتا تھا۔ اس کے اوپر ابھرتے ہوئے سورج کو دکھایا گیا ہے، جو کہ آزادی کی علامت نشان ہے۔ اس دور کے پوسٹروں میں یہ علامت بار بار دکھائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

سوشل ہرم: یہ مایاکسوسکی راداکو کا پارس محل کے لیے اشتراک ہے۔ یہ واضح طور پر مضحکہ خیز تصویر ہے۔ اس پوسٹر اوپر سے نیچے یہ لکھا ہے: ہم حکمرانی کرتے ہیں، ہم آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ہم آپ کا فیصلہ کرتے ہیں، ہم آپ کی حفاظت کرتے ہیں، ہم آپ کو کھانا کھلاتے ہیں اور آپ کام کرتے ہیں۔‘ سنہ 1917 کی گرمی تک سب سے زیادہ مقبول اور سنجیدہ کہانیاں زار نکولس ٹو اور اس کی بیوی کے جو خاص طور پر بادشاہت کے محالف تھے، بارے میں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

مہم کے راستے پر: سنہ 1917 کی خزاں تک روس میں پہلے عام انتخابات کی مہم کا آغاز ہوا۔ یہ تیز اور غیر مصالحانہ مہم تھی۔ اس مہم میں درجنوں تنظیموں نے حصہ لیا لیکن ان میں سب سے بڑی سوشلسٹ ریولوشنری پارٹی تھی۔ اس پوسٹر میں یہ الفاظ درج تھے: ’کامریڈ شہریوں، دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی روز مظاہروں کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

’جمہوریت بدامنی کو شکست دے گی‘: یہ کیڈٹ پارٹی کا پوسٹر ہے۔ جو جانوروں اور دیو مالائی تصاویر کا اشتراک ہے۔ اس تصویر میں ایک بڑی چھپکلی بد امنی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ سفید گھوڑے پر نائٹ جمہوریت کا نشان ہے۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

زنجیروں کو توڑنا: دی سوشلسٹ ریولوشن پارٹی کا انتخابی پوسٹر بہت سادہ تھا۔ اس کے پوسٹر پر یہ نعرہ تھا۔ ’ دی سوشلسٹ ریولوشن پارٹی، آپ کو صرف جنگ میں اپنے حقوق ملیں گے۔ انھوں نے ایک منظم مہم چلائی، انھوں نے ’زمین اور آزادی‘ اور زنجیریں توڑ دو، پوری دنیا آزاد ہو جائے گی‘ کے نعرے کے ساتھ فتح حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہsovrhistory.ru

،تصویر کا کیپشن

پارٹی کے لیے دیر: دی لوشووک پارٹی (آر ایس ڈی ایل پی) پوسٹر کے کھیل کے لیے سست تھی۔سنہ 1917 کی انتخابی مہم کے لیے اس کے انتخابی پوسٹرکا نعرہ بہت سادہ تھا۔ ’آر ایس ڈی ایل پی کو ووٹ دیں۔‘ جب نومبر سنہ 1917 کو خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو انھوں نے فوری طور پر پکڑا۔ سویت یونین کے آرٹسٹوں کا ایک گروپ جس میں مایاسکوسی اور روڈوکو بھی شامل تھے نے مشہور رسٹا ونڈوز کو تخـلیق کیا۔ ان کے پوسٹروں پر سادہ، مختصر اور واضع پیغامات تھے۔ یہ براڈ سویت پراپیگینڈے کا ہال مارک اور آخر کار ایک عالمی کلاسک ڈیزائن بن گیا۔