اسرائیلیوں سے ملاقاتوں پر تنازع، پریتی پٹیل مستعفی

پریتی پٹیل تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مئی 2010 میں کنزرویٹیو پارٹی کی جانب سے وٹہیم سے رکنِ پارلیمان منتخب ہوئی تھیں

برطانوی رکنِ پارلیمان پریتی پٹیل کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد انھوں نے استعفی دے دیا ہے۔

پٹیل نے اپنے استعفے میں کہا ہے، ’جو کچھ میں نے کیا تھا وہ صحیح ارادے کے ساتھ کیا تھا، لیکن یہ شفافیت اور افادیت کے اعلی معیار کے مطابق نہیں تھا۔ جو کچھ ہوا اس کے لیے میں آپ سے اور حکومت سے معذرت خواہ ہوں اور استعفی دے پیش کرتے ہیں۔‘

اس سے پہلے انھیں افریقہ کا دورہ فوری طور پر ختم کر کے برطانیہ واپس آنے کو کہا گیا ہے۔

بی بی سی کی پولیٹیکل نامہ نگار لارا کیونسبرگ کے مطابق بدھ کو اس معاملے پر کوئی نہ کوئی کارروائی متوقع تھی اور اب پریتی پٹیل کی برطرفی 'تقریباً یقینی تھی۔ ‘

پٹیل نے پیر کو وزیرِ اعظم سے اگست میں اسرائیلی سیاست دانوں سے غیر منظور شدہ ملاقاتیں کرنے پر معذرت کی تھی۔ تاہم اب معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے ستمبر میں مزید ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

’روہنگیا کے معاملے میں انڈیا کا موقف درست نہیں‘

برطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیا

’سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگ میں ملوث ہے‘

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز لینڈیل کے مطابق بین الاقوامی ترقی کی وزیر اپنا یوگینڈا کا دورہ ختم کر کے واپس برطانیہ آ گئی تھیں۔

پیر کو ایوانِ وزیرِ اعظم کی جانب سے پریتی پٹیل کو باضابطہ طور پر تنبیہ کی گئی تھی، اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی چھٹیوں کے دوران اسرائیلی حکام سے ایک درجن کے قریب ملاقاتوں کی تفصیل بتائیں۔ وزارِتِ خارجہ کی جانب سے ان ملاقاتوں کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پٹیل نے وزیرِ اعظم کو ان ملاقاتوں یا اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ ٹیکس دہندگان کی رقم اسرائیلی فوج کو دینا چاہتی تھیں تاکہ گولان کی پہاڑیوں پر موجود شامی پناہ گزینوں کو طبی امداد دی جا سکے۔ حکام نے اس درخواست کو 'غیر مناسب' کہہ کر رد کر دیا تھا۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انھوں نے ستمبر میں دو مزید ملاقاتیں کیں جن میں دوسرے حکام موجود نہیں تھے۔

خیال ہے کہ کنزرویٹیو فرینڈز آف اسرائیل نامی تنظیم کے اعزازی صدر لارڈ پولاک دونوں ملاقاتوں میں موجود تھے۔

پریتی پٹیل نے اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد اردان سے ویسٹ منسٹر میں سات ستمبر کو ملاقات کی تھی۔

بعد میں اردان نے اس ملاقات کے بارے میں ٹویٹ کی تھی۔

18 ستمبر کو پریتی نیویارک میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے عہدہ دار یووال روتیم سے ملیں۔ اسی ہفتے پریتی پٹیل کو کہا گیا تھا کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے کل کتنی ملاقاتیں کیں اور ان کے بارے میں وزارتِ خارجہ کو کب کب مطلع کیا گیا تھا۔

پریتی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اخبار گارڈین کو یہ بتانا غلط تھا کہ وزیرِ خارجہ بورس جانسن اس بارے میں پہلے سے جانتے تھے، حالانکہ انھیں ملاقاتوں کے بارے میں اسی وقت پتہ چلا تھا جب وہ پہلے سے جاری تھیں۔

پریتی پٹیل کون ہیں؟

  • مئی 2010 میں کنزرویٹیو پارٹی کی جانب سے وٹہیم سے رکنِ پارلیمان منتخب ہوئی تھیں
  • جولائی 2014 سے مئی 2015 تک وزیرِ خزانہ رہیں
  • اس کے بعد وہ مئی 2015 سے جولائی 2016 تک وزیرِ روزگار رہیں
  • جولائی 2016 میں انھیں وزیرِ ترقی مقرر کیا گیا
  • وہ طویل عرصے سے بریگزٹ کی حامی رہی ہیں اور اس بارے میں ہونے والے ریفرینڈم کے دوران خاصی سرگرم تھیں
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

منگل کو دارالعوام میں وزارتِ خارجہ کے وزیر الیسٹیر برٹ نے کہا کہ پریتی پٹیل کو تنبیہ دینے اور انھیں وزارت کے ضابطۂ کار کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد ایوانِ وزیرِ اعظم اب اس معاملے کو ختم تصور کرتا ہے۔

پریتی پٹیل طویل عرصے سے اسرائیل کی حامی رہی ہیں اور وہ کنزرویٹیو فرینڈز آف اسرائیل کی سابق نائب چیئر پرسن بھی رہ چکی ہیں۔

لیبر کے سابق لارڈ چانسلر لارڈ فاکنر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'انھیں ایک بیرونی ملک کے ساتھ ملی بھگت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملک اتحادی ہے یا نہیں۔۔۔ یہ عمل خفیہ طریقے سے کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اسرائیلی حکومت کی سفارت کار ہیں نہ کہ برطانوی حکومت کی۔'

تاہم کنزرویٹیو وزیر برائے بین الاقوامی ترقی سر ڈیسمنڈ سوین نے کہا کہ اگر پٹیل کو مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تو یہ 'تباہ کن' ہو گا۔ ایک ہفتہ قبل ہی وزیرِ دفاع سر مائیکل فیلن مستعفی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں