سعودی ’گیم آف تھرونز‘: دیکھیں اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے

رٹز کارلٹن ہوٹل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاض میں رٹز کارلٹن ہوٹل جہاں سبھی شہزادے زیرِ حراست ہیں

سعودی عرب میں حالیہ واقعات نے نہ صرف سعودی مملکت بلکہ پوری دنیا پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

11 سے زیادہ شہزادوں اور کئی تاجروں اور سرکاری افسران کی گرفتاری نے اس قدامت پسند سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا جہاں سے عام طور پر کوئی معمولی خبر بھی باہر نہیں نکلتی۔ دنیا کے میڈیا کی نظریں ادھر لگی ہوئی ہیں اور سعودی عوام سانس روکے نوجوان سعودی ولی عہد کے اگلے قدم پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو پکڑے گئے شہزادوں کا تعلق ان کے حسب نسب سے بھی نکلتا ہے کہ کون کس کا بیٹا ہے اور اس کے باپ کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ ہوا تھا۔ چند مثالیں سامنے ہیں۔

کون کون سے اہم شہزادوں کو پکڑا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزادہ ولید بن طلال کے دنیا کے امیر ترین افراد سے ذاتی تعلقات ہیں

شہزادہ الولید بن طلال

62 سالہ ارب پتی شہزادے ولید بن طلال دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے پوتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے والد طلال بن عبدالعزیز السعود ایک آزاد سوچ کے مالک تھے اور ان کے دوسرے سعودی بادشاہوں کے ساتھ تعلقات اکثر سرد رہے تھے اور ایک موقع تو ایسا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل نے، جو ان سے سخت ناراض تھے، طلال بن عبدالعزیز کی والدہ کے کہنے پر انھیں ملک میں واپس تو آنے دیا اور ان کے اثاثے بھی منجمد نہیں کیے لیکن انھوں نے کبھی انھیں معاف نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ الولید بن طلال کون ہیں؟

سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاں

شاہ سلمان کے تین سال میں کیا کچھ بدلا؟

’وہ تین ہفتے تک میرا ریپ کرتا رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہزادہ ولید بن طلال بھی اپنے والد کی طرح لبرل خیالات کے مالک ہیں۔ اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر تو فائز نہیں لیکن اپنے کاروباری اثر و رسوخ کی وجہ سے سعودی پالیسی بنانے میں ان کا بڑا عمل دخل مانا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے امور کے متعلق تجربہ رکھنے والے تجزیہ کار راشد حسین کہتے ہیں کہ کرپشن یا بدعنوانی کے متعلق تو مقدمات کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن ولی عہد محمد بن سلمان، شہزادہ ولید بن طلال سے اس وجہ سے بھی خطرہ محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ ولید بن طلال کو مغربی دنیا بہت جانتی ہے اور وہ انھیں ایک لبرل شخصیت کے طور پر جانتی ہے۔

ان کے مغربی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بڑے قریبی تعلقات ہیں چناچہ اگر کبھی مغربی دنیا کو سعودی عرب میں کسی لبرل شخصیت کی طلب ہو سکتی تھی تو وہ ولید بن طلال کی شکل میں موجود تھی۔

شہزادہ مطعب بن عبداللہ

65 سالہ شہزادہ مطعب مرحوم شاہ عبداللہ کے 34 بچوں میں سے ایک ہیں۔ وہ حراست سے پہلے سعودی عرب کی طاقتور نیشنل گارڈ کے سربراہ تھے جو کہ ملک کی تقریباً آدھی فوج پر مشتمل ہے۔ باقی آدھی فوج براہ راست محمد بن سلمان کو جوابدہ تھی۔ لیکن اب ان کا کنٹرول تقریباً پوری فوج پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ مطعب بن عبداللہ بھی بادشاہت کے خواہاں رہے ہیں

راشد حسین کے مطابق مطعب بن عبداللہ بھی بادشاہت کے خواہاں رہے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ نیشنل گارڈز کے سربراہ تھے جو شمری قبائل پر مشتمل ہے اور شمری قبائل عبداللہ کا قبیلہ ہے۔ اس قبیلے میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں اور یہ عبداللہ اور ان کے خاندان کے بڑے وفادار ہیں۔

راشد حسین کے مطابق مطعب بن عبداللہ ہی وہ شخصیت تھے کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سعودی الیجیئنس کونسل میں یہ معاملہ پیش ہوا کہ محمد بن نائف کو سلطنت کے ولی عہد کی پوزیشن سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ محمد بن سلمان کو لایا جائے تو جن چند لوگوں نے اس کی مخالفت کی جرات کی تھی ان میں سے ایک مطعب بن عبداللہ بھی تھے۔

تو ہوا اس طرح کہ محمد بن سلمان کے لیے ایک اور بڑا خطرہ برطرفی اور گرفتار کی وجہ سے سائیڈ لائن ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزادہ ترکی بن عبداللہ ریاض کے گورنر رہے ہیں اور انہی کے دور میں ریاض میٹرو پراجیکٹ شروع ہوا

شہزادہ ترکی بن عبداللہ

46 سالہ شہزادہ ترکی سابق شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ وہ صوبے ریاض کے گورنر رہے ہیں اور انھیں ریاض میٹرو پراجیکٹ کا بانی بھی کہا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق یہی وہ پراجیکٹ ہے جس میں کرپشن کا ان پر الزام ہے۔

عرب تجزیہ نگار خالد ال مینا کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو ایک ساتھ پکڑا اور نکالا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ شاہی خاندان کے لیے 'ویک اپ' کال ہے کہ جو آدمی بھی اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرے گا چاہے اس کا تعلق شاہی خاندان سے ہی کیوں نہ ہو، اس کا یہی حشر ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبداللہ العساف بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو کبھی محمد سلمان کے فیصلوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں

ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبداللہ العساف

68 سالہ ابراہیم العساف حراست کے وقت وزیرِ خزانہ تھے۔ اس سے قبل وہ تدریس کے شعبے سے بھی منسلک رہے ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کی آئی ایم ایف میں بھی نمائندگی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان پر مکہ کی بڑی مسجد یعنی خانہ کعبہ کی وسعت کے پراجیکٹ میں کرپشن کا الزام بتایا جاتا ہے۔

تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو کبھی محمد سلمان کے فیصلوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ خالد التویجری، سابق سربراہ ایوان شاہی، شہزادہ ترکی بن ناصر، سابق سربراہ محکمہ موسمیات اور کئی دیگر اہم عہدوں پر فائز شخصیات اور سرمایہ دار ہیں۔

خالد ال مینا کے مطابق محمد بن سلمان نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

ان کے مطابق یہ اتنا عوامی فیصلہ ہے کہ 'اگر آج شاہ کے لیے انتخابات ہوں تو محمد بن سلمان جیت جائیں گے۔'

'لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں مکمل بادشاہت ہے اور وہاں کرپشن ہے ایسے میں اس طرح کا کام ایک اچھی مثال ہے۔'

راشد حسین اسے اس طرح بھی دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے فیصلوں کے پیچھے امریکہ کی بھی آشیر باد شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عوام کی نظریں ملک میں ہونے والے واقعات پر لگی ہوئی ہیں کہ دیکھیں اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے

'ان فیصلوں سے چند دن پہلے جارید کشنر بہت لو پروفائل دورے پر سعودی عرب آئے۔ اور اکثر لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس میں شاہی خاندان ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جو زیرِ بحث رہا۔'

راشد حسین کے مطابق کرپشن حقیقت میں سعودی عرب کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

'سعودی عرب میں چونکہ دولت کی فراوانی رہی ہے اس لیے کرپشن سرِ عام نظر نہیں آتی ہے جس طرح دوسرے ملکوں میں نظر آتی ہے۔ لیکن کرپشن کو استعمال کر کے غالباً محمد بن سلمان صاحب نے نوجوان نسل کو جو کہ ان کا اصل ووٹ بینک ہے، یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ دیکھو میں ان تمام بڑے لوگوں پہ ہاتھ ڈال رہا ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی حمایت کرتے رہیں اور لگتا یہ ہے کہ وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔'

سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے

حریری کے استعفے کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا ہے: ایران

سعودی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ’ناکام‘

’کرپشن کے خلاف جنگ‘ یا ’شطرنج کی بازی‘

مبصرین کے مطابق سعودی شاہی خاندان میں بڑے زبردست اختلافات ہیں اور ان اختلافات کا اثر محمد بن سلمان کی بادشاہت پر پڑ سکتا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب کچھ کیا جائے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر گھیرا تنگ کرنا چاہتے ہیں اور شاید یہ اس ہی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے محمد بن سلمان کی کھل کر حمایت کی ہے اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

سنیچر کو سعد حریری کا ریاض میں استعفیٰ دینا، اسی دن ہی ریاض ایئرپورٹ کے قریب حوثیوں کی طرف سے مبینہ طور پر چلائے گئے بیلسٹک میزائل کو روکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اور اس کے تمام دوستوں جن میں حزبِ اللہ بھی شامل ہے، ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کا نیا باب شروع ہو گیا ہے جس میں ٹرمپ اور محمد بن سلمان بڑے جارحانہ طریقے سے کاربند ہیں۔

اسی بارے میں