کیا سعودی ولی عہد محمد سلمان سعودی عرب کی سب سے طاقتور شخصیت بن گئے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ولی عہد محمد سلمان سعودی عرب کی سب سے طاقتور شخصیت بن کر ابھر رہے ہیں

سنہ 2015 میں شاہ سلمان کے سعودی عرب کے بادشاہ بننے سے پہلے شاید کسی نے ہی ان کے بیٹے شہزادہ محمد سلمان کا نام سنا ہو۔ لیکن اس کے بعد 32 سالہ سعودی شہزادے تیل کی دولت سے مالا مال اس سلطنت کی سب سے اہم شخصیت شمار کیے جاتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں جب انھیں سعودی عرب کا فرمانروا بنا دیا جائے گا۔ شاہ سلمان ضعیف ہیں اور بیمار بھی، یہ کبھی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تاج چھوڑ دیں اور شہزادہ محمد سلمان کو بادشاہ بنانے کا اعلان کر دیں۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو شہزادہ محمد ہی اصل میں ملک کو چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد سلمان سے پہلے ولی عہد محمد نائف تھے اور پھر ایک دن شاہ سلمان کے حکم پر انھیں اچانک ولی عہد بنا دیا گیا

دنیا کے سب سے کم عمر وزیرِ دفاع

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ الولید بن طلال کون ہیں؟

سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاں

غیرمستحکم مشرق وسطیٰ میں ایک بھونچال

’شاہ سلمان اور ولی عہد جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘

ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزادہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ اُن کی ایک ہی بیوی ہے جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

شاہ سلمان نے 2015 میں اقتدار سنبھالتے ہی دو اہم تبدیلیاں کیں اور اپنے بیٹے کو تخت کے قریب کر دیا۔ شہزادہ محمد 29 برس کی عمر میں دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب پر الزام ہے کہ اس نے یمن میں بے دریغ بمباری کی ہے

یمن کے ساتھ جنگ

وزارتِ دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی پہلا کام جو نوجوان وزیرِ دفاع نے کیا وہ مارچ 2015 میں یمن کے ساتھ اعلان جنگ تھا۔ اس کا موقع انھیں اس وقت ملا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صناء سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کے یمن کے صدر عبدالرب منصور حادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا اور انھوں نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ سعودی فوجی اتحاد حوثی باغیوں کو اس وقت سے نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی قیادت میں ڈرامائی انقلاب

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار: سعودی عرب

تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انھوں نے عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں ایک انسانی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈھائی سال بعد بھی جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

کلسٹر بموں کا استعمال

شہزادہ سلمان کی بطور وزیرِ دفاع سربراہی میں ہی سعودی عرب نے یمن پر برطانوی ساخت کے کلسٹر بم گرائے۔ برطانیہ نے 1989 میں کلسٹر بم بنانے بند کر دیے تھے اور 2008 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے کہ وہ انسانی وجوہات کی بنا پر انھیں کبھی استعمال نہیں کرے گا۔

دنیا کا سب سے بڑا اسلحے کا سودا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی میں سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے سے ایک ماہ پہلے شہزادہ محمد سلمان واشنگٹن گئے اور صدر ٹرمپ اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تاریخی دورے کے دوران ایک اور تاریخی کام کیا اور وہ تھا دنیا کے سب سے بڑے اسلحے کے سودے کا معاہدہ۔ انھوں نے 110 ارب ڈالر کے ٹینک، آرٹلری، ریڈار سسٹم، بکتر بند گاڑیوں، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور پیٹریاٹ میزائل کی فروخت کے معاہدے کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی ولی عہد ملک میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور ان کی وژن ہے کہ وہ سعودی عرب کو ایک کافی اعتدال پسند ریاست بنا دیں گے

تیل سے ماورا معیشت

اپریل 2016 میں انتہائی بااثر شہزادہ محمد نے کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولیپمنٹ افیئر کے صدر کی حیثیت سے ملک میں بڑے پیمانے پر معاشی اور سماجی اصلاحات کے پروگرام شروع کیے جن کا مقصد سلطنت کے تیل پر انحصار کو ختم کرنا تھا۔

محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے نام سے ملک میں ایک نیا منصوبہ متعارف کروایا ہے جس کے تحت 2020 تک سعودی عرب کا تیل پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ یہ بات درست بھی ہے۔ کبھی تو تیل ختم ہونا ہے اور محمد سلمان اس دور کو دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے اس کے لیے صحرا میں آدھے ٹریلین ڈالر کے ایک وسیع شہر کا منصوبہ بنایا ہے جس میں روبوٹ، ڈرونز، ڈرائیوروں کے بغیر کاریں، سنیما اور ایسے ریزورٹ ہوں گے جن میں عورتیں اور مرد آپس میں مل سکیں گے۔

ایسی باتیں پہلے کبھی اس قدامت پسند معاشرے میں نہیں سنی گئی تھیں۔ تو ایسا صاف ظاہر ہے کہ ولی عہد محمد سلمان اپنی وژن کے متعلق بہت کلیئر ہیں اور جو کوئی بھی ان کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا وہ اسے ہٹا دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک ہی رات میں کئی سعودی شہزادوں اور اہم شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا

لمبے چاقوؤں کی رات

سنیچر چار اکتوبر کو سعودی عرب میں لمبے نوکیلے چاقوؤں کی رات کہا جاتا ہے۔ اس رات ولی عہد محمد سلمان کے حکم پر سعودی شہزادوں، وزیروں اور اہم شخصیات کی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لے کر ایک بڑے ہوٹل میں بند کر دیا گیا۔

ایسا سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ سبھی بہت اثر و رسوخ والی اہم شخصیات تھیں۔ انھیں اس طرح کرپشن کے الزام میں پکڑنا ان کی بڑی تذلیل تھی۔ لیکن سعودی ولی عہد نے نہ صرف اس کا حکم جاری کیا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ ان کے حکم پر مکمل عمل ہو اور کوئی بھی ملک سے فرار نہ ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد سلمان نے امریکہ کے علاوہ روس سے بھی تعلقات بڑھائے ہیں

واشنگٹن اور روس سے تعلقات

محمد سلمان کو ولی عہد بنائے جانے سے پہلے ان کے کزن محمد بن نائف ولی عہد تھے اور واشنگٹن خصوصاً سی آئی اے کے ساتھ تعلقات ان ہی کی ذمہ داری تھی۔ جب شاہ سلمان کے حکم پر محمد نائف کی جگہ محمد سلمان کو ولی عہد بنایا گیا تو واشنگٹن کو سمجھ آ گیا کہ ریاض میں طاقتور کون ہے۔ اس کے بعد واشنگٹن اور ریاض کے درمیان وہ مرکزی رابطہ رہے ہیں۔ لیکن واشنگٹن ہی نہیں ولی عہد محمد سلمان نے شام اور ایران کے مسئلے پر بھی روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔

محمد سلمان اسرائیل کے لیے ایک 'اچھی خبر'

اسرائیلی اخبار ہیرٹز کے مطابق محمد بن سلمان اپنی ایران مخالف حکمت عملی کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے ایک اچھی خبر ہیں۔

پچھلے ماہ شہزادہ محمد نے ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ دونوں ممالک شام اور یمن میں مخالف دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ریاض اور تہران میں تعلقات اُس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب سعودی حکام نے معروف شیعہ عالم نمر النمر کی سزائے موت پر عمل کیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے محمد سلمان کی تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر او رسوخ کو ایک 'سافٹ کُو' قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ سعودی عرب پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے لبنانی وزیرِ اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے

بیک وقت کئی لڑائیاں

سعودی ولی عہد ایک ہی وقت میں کئی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔ ڈھائی سال پہلے انھوں نے سعودی افواج کو یمن پر حملے کا حکم دیا تھا۔ یہ جنگ ابھی بھی جاری ہے اور اس میں لاکھوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

وہ اپنے ہمسایہ ملک قطر کے بھی بائیکاٹ کی سربراہی کر رہے ہیں جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہو رہا ہے۔ اس اقتصادی بائیکاٹ میں ان کا ساتھ مصر، اردن، یمن اور متحدہ عرب امارات بھی دے رہے ہیں۔

وہ ایران کے ساتھ الفاظ کی جنگ میں بھی پیش پیش ہیں اور ایران پر مشرقِ وسطیٰ میں جارحیت اور بدامنی پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں۔ منگل کو بھی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ یمن میں باغیوں کو میزائل فراہم کر کے 'براہ راست جارحانہ فوجی کارروائی' میں ملوث ہونے کا مرتکب ہو رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے لبنانی وزیرِ اعظم سعد حریری نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں استعفیٰ دیتے ہوئے حزب اللہ کے حمایتی ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس سارے فساد کی جڑ ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی یہ کہتا رہا ہے اور ولی عہد سلمان ایران سے اپنی نفرت کو کبھی نہیں چھپاتے۔

سعودی عرب پہلے ہی شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا حامی ہے دوسری طرف اس کی دولتِ اسلامیہ سے بھی جنگ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلانے کے پیچھے بھی ولی عہد محمد سلمان کا ہاتھ کہا جاتا ہے

عورتوں کی ڈرائیونگ کے حامی

سعودی ولی عہد سلطنت میں بہت کم افراد میں سے ایک ہیں جو مذہبی علما سے ٹکر لے سکتے تھے اور ان سے کہہ سکتے تھے کہ بس اب بہت ہو گئی اب سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت مل جانی چاہیے۔

سعودی عرب دنیا میں آخری ملک تھا جہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔ اب جون میں یہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی اور سعودی عورتوں کا خواب پورا ہو جائے گا۔ ابھی تک تو مذہبی علما نے اس فیصلے کو مان لیا ہے دیکھیں جون میں کیا ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں