سعودی اتحاد کی ناکہ بندی،’یمن کو دنیا کے سب سے بڑے قحط کا سامنا‘

یمن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کے ایک سینئیر اہلکار نے سعودی اتحاد سے یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے یمن کو بدترین قحط کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق انڈر سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اتحاد پر زور دیا کہ وہ یمن کی ناکہ بندی ختم کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کے بارے میں بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک لوکاک کا کہنا تھا کہ انھوں نے کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ 'جب تک یمن کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہاں قحط ختم نہیں ہو گا۔'

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب نے ریاض پر ناکام میزائل حملے کے بعد یمن تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار ہے: سعودی عرب

اقوامِ متحدہ جنگی جرائم کے ماہرین کو یمن بھیجنے پر متفق

ریڈ کراس کی یمن کی بندرگاہ تک رسائی کی اپیل

یمن میں 'قحط کا خطرہ، ہر دس منٹ بعد ایک بچے کی موت'

یمن: امریکہ کی تنبیہ، سعودی اتحاد کا حملے کی تحقیقات کا اعلان

انھوں نے مزید کہا کہ'یہ دنیا میں گذشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا قحط ہو گا جو دسیویں لاکھوں افراد کو متاثر کرے گا۔'

واضح رہے کہ سعودی فوجی اتحاد نے گذشتہ پیر کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض پر داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنانے کے بعد یمن کے تمام فضائی، زمینی اور سمندری راستوں کو بند کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

سعودی فوجی اتحاد نے میزائل داغے جانے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے 'خطرناک پیش رفت' قرار دیا تھا۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کی ناکہ بندی دراصل ایران کی جانب سے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکنے کی کوشش ہے۔ ایران نے باغیوں کو ملسح کرنے کی تردید کی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے یمن کی صورتِ حال کو 'تباہ کن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یمن کے دسویں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے جو امداد پہنچانے والے اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کی روکی جانے والی امداد میں ملیریا سے بچاؤ کی گولیاں بھی شامل تھیں جس سے نو لاکھ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ70 لاکھ یمنی شہریوں کو قحط کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں