محمد بن سلمان کا راستہ خطے کے لیے پر خطر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد بن سلمان کی عمر صرف 32 برس ہے

یوں تو سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان، کے سنہ 2015 میں سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوتے ہی سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں جارحیت کا عنصر حاوی نظر آنے لگا تھا، لیکن گزشتہ چند دنوں کی پیش رفت سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ سعودی عرب اندرونی طور پر بھی خاندانی حکمرانی سے شخصی آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

معاشی اصلاحات ہوں یا سماجی، کرپشن کے نام پر مخالفین کے خلاف کارروائی، یا طاقت پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنا یا پھر سعودی عرب کا سنہ 2030 کا اقتصادی ویژن، ان سب اقدامات کے پیچھے ایک جارحانہ سوچ اور عجلت کا عنصر دکھائی دیتا ہے۔

عجلت تو مسلم دنیا کے ایک اہم ترین ملک کی بادشاہت حاصل کرنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے لیکن جارحیت کا عنصر صرف مزاج کی تیزی اور شخصیت کا خاصہ ہی ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے

سعودی ’گیم آف تھرونز‘: اونٹ اب کس کروٹ بیٹھے گا؟

سعودی ولی عہد کا ترقی کا خواب اور کئی محاذ

سنہ 2015 میں محمد بن سلمان کے وزیر دفاع کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی سعودی عرب کی افواج نے دنیا کے ایک غریب ترین مسلمان ملک یمن پر یلغار کر دی جو تاحال جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے حوثی باغیوں کی طرف سے ریاض کے ہوائی اڈے پر مبینہ طور پر ایرانی ساخت کے میزائل داغے جانے سے واضح ہو گیا ہے کہ سعودی عرب کے دو سال سے یمن پر مسلسل بمباری سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔

جنگ کا اختتام ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر ناکام میزائل حملے کے بعد سعودی عرب کی طرف سے یمن کے بحری، بری اور فضائی بائیکاٹ سے یمن کے عوام کی مشکلات سنگین تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

شام میں حزب اللہ کی مدد و معاونت اور روسی کی براہ راست مداخلت سے اسد مخالف مسلح گروہوں اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے خاتمے کے بعد اسد حکومت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مغربی طاقتیں اور سعودی عرب جو شام میں صدر اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے سے کم کسی حل پر تیار نہیں تھیں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں اور اندھیرے میں ہاتھوں پاؤں مارتی نظر آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سعودی میں اصلاحات متعرف کرانا چاہتے ہیں

شام کے علاوہ اسی دوران سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ یہاں بھی سعودی عرب قطر سے وہ پندرہ شرائط منوانے میں ناکام رہا جن میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کو بند کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔

بے شک یمن، شام اور قطر کے محاذوں پر سعودی عرب کو تاحال کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، اس کے باوجود اب سعد الحریری سے استفعی کا اعلان کروا کے لبنان میں بھی ایک سیاسی بحران کھڑا کر دیا گیا ہے۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کا ذمہ دار محمد بن سلمان ایران کو ٹھہراتے ہیں اور ایران کی طرف سے ان الزامات کی تردید کے باوجود سعودی ولی عہد نے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔

ایران کی مخالفت میں ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل پوری طرح محمد بن سلمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ امریکہ میں سابق صدر اوباما کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر جتنی برہم اسرائیلی حکومت تھی اتنا ہی غصہ محمد بن سلمان کو تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقعہ تھا جہاں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں واضح کشیدگی نظر آئی تھی۔

مشرقی وسطی گزشتہ ایک صدی سے مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا میدان بنا رہا ہے لیکن دنیا بھر کے ماہرین اور تجزیہ کار آج اس بات پر مکمل طور یک زبان ہیں کہ مشرق وسطی جتنا آج غیر مستحکم اور خطرناک صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، اس پہلے کبھی اسے اتنی خطرناک صورت حال کا سامنا نہیں رہا۔

بیرونی محاذوں پر ناکامیوں اور خطرات کے باوجود داخلی محاذ پر محمد بن سلمان نے جو اقدامات کیے ہیں ان پر نہ صرف تجزیہ کار بلکہ امریکی خیفہ اداروں کے اہلکار بھی حیران ہیں۔

سعودی عرب میں کرپشن کے نام پر جس پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے اس کی کوئی نظیر سعودی تاریخ میں نہیں ملتی۔

بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں اور تجزیوں میں مبصرین نہ صرف اس اچانک کارروائی پر انگشت بدنداں ہیں بلکہ وہ ان اقدامات کے نتائج کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ پا رہے ہیں۔

سعودی عرب میں پالیسی سازی ہمیشہ ہی سات پردوں کے پیچھے کی جاتی رہی ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں لیے جانے والے فیصلوں میں جس قسم کی راز داری برتی جا رہی ہے، ماضی میں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔

سعودی عرب میں انتقال اقتدار کے فیصلے افہام و تفہیم اور خاندانی سطح پر مفاہمت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے رہے ہیں۔ سلطنت کے اہم فیصلوں میں یہ عنصر ہمیشہ مدِ نظر رہا ہے کہ آل سعود کے اہم افراد کو کسی نہ کسی سطح پر اقتدار میں شریک رکھ کر مطمئن رکھا جائے۔

سعودی عرب کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق کرپشن کے نام پر کی گئی کارروائی کو سعودی نوجوان میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن اس کا اصل مقصد تخت تک پہنچنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب اپنی فوجی قوت بڑھانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے

محمد بن سلمان نے جو راہ اختیار کی ہے اس کے مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں کیا اثرات مرتب ہو ں گے ان کا مکمل طور پر احاطہ کیا جانا فی الوقت ممکن نہیں ہے لیکن یہ راہ بہت پر خطر دکھائی دیتی ہے اور نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کو سنگین بحران سے دو چار کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں