انڈونیشیا کے عجائب گھر سے ہِٹلر کے متنازع موم کے مجسمے کو ہٹا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قسم کی تصاویر پر کئی لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے

انڈونیشیا کے ایک عجائب گھر میں رکھے ہوئے ایڈولف ہِٹلر کے موم کے مجسمے کو ہٹا دیا گیا ہے۔

جاوا کے شہر جوگجکارتہ کے آرٹ میوزیم میں رکھے گئے اس مجسمے کو ہٹائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر سیلفیاں بناتے تھے۔

مزید پڑھیے

ہٹلر کا سلیوٹ کرنے کے الزام میں دو چینی گرفتار

ہٹلر کی دیوانی ایک ہندو خاتون

ہٹلر کے گھر کو گرانے کا فیصلہ

ہٹلر کے فون کی امریکہ میں نیلامی ہو گی

سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں نے جو تصاویر پوسٹ کی ہیں ان میں لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا جا سکتا جبکہ پس منظر میں نازی جرمن رہنما کو آشوٹز کے بدنامِ زمانہ کیمپ کے گیٹ کے سامنے کھڑا دکھایا گیا جہاں لاکھوں یہودیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

ان تصاویر پر انڈونیشیا کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ڈی آرکا میوزیم کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہٹلر کا مجسمہ لگانے کا مقصد لوگوں میں آگہی پیدا کرنا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے عجائب گھر کے ایک مینیجر، جیمی مصباح‘ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد کسی کی ہتک نہیں تھا۔‘

سوشل میڈیا پر مجسمے کے ساتھ کھینچی گئی تصاویر میں ایک تصویر وہ بھی ہے جس میں نوجوانوں کا گروہ نارنجی رنگ کا قیدیوں جیسا یونیفارم پہنے ہٹلر کو نازی انداذ میں سلیوٹ کر رہا ہے۔

اگرچہ عجائب گھر کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ ان کے ہاں آنے والے سیاحوں نے کبھی اس مجسمے کے بارے میں شکایت نہیں کی، تاہم سوشل میڈیا پر مذکورہ تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد دنیا بھر سے لوگوں نے برا منایا ہے۔

انسانی حقوق کی یہودی تنظیم ’سائمن ویزنتھال سینٹر‘ سے منسلک عالم ابراہیم کُوپر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس (مجمسے) کے حوالے سے سب کچھ غلط ہے۔ میرے پاس اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘

’اس مجسمے کے پس منظر میں جو کچھ دکھایا گیا ہے وہ ان لوگوں کی توہین ہے جو اس کیمپ کے اندر گئے اور پھر کھبی باہر نہیں آ سکے۔‘

اندازہ ہے کہ آشوٹز کے کیمپ میں گیارہ لاکھ یہودیوں کو بند کیا گیا تھا۔

کچھ لوگوں کے مطابق ہٹلر کے مجسمے سے پیدا ہونے والے اس تنازعے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگوں میں ہولوکاسٹ کے دوران ہونے والی تباہی کے بارے میں احساس نہیں پیدا کیا جاتا، لیکن حقوق انسانی کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ سے منسلک محقق اینڈریاس ہاسونو کا کہنا ہے کہ اصل میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک میں یہودی مخالف جذبات کتنے زیادہ ہیں۔

انڈونیشیا کے عجائب گھر سے ہٹلر کے مجسمے کو ہٹائے جانے سے پہلے جاوا میں ہی نازی دور کی تھیم پر بننے والے ایک کیفے کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں