بورس جانسن کے بیان پر ایرانی قیدی کے اہلخانہ پریشان

نازنین تصویر کے کاپی رائٹ ZAGHARI-RATCLIFFE FAMILY

برطانوی وزیر خارجہ کے 'غیر رسمی' بیان کے بعد ایران میں قید ایرانی نژاد برطانوی خاتون کے گھر والوں کو ڈر ہے کہ ان کی سزا کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ بورس جانسن نے کہا تھا کہ نازنین زغاری ریٹکلف نامی خاتون ایران میں ’صحافیوں کو تربیت دے رہی تھیں‘۔

تاہم بعد میں بورس جانسن نے اس پر معذرت کی اور بار بار کہا کہ وہ وہاں چھٹیاں گزارنے گئی تھیں۔ اتوار کو ان کے شوہر کی بورس جانسن سے بات بھی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیا

ایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

ٹورفین میں رہنے والی ان کی نند کو ڈر ہے کہ اس بیان کو ان نازنین زغاری کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ڈاکٹر ریبیکا ریٹکلف نے کہا کہ وزیر خارجہ کے ’بیان کو ایران کے سرکاری ٹی وی اور میڈیا نے اٹھایا اور بڑے پیمانے پر پھیلایا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بورس جانسن نے ان کے پراپیگینڈا کے لیے انھیں موقع فراہم کر دیا ہے اور اب اسے آسانی سے آئندہ عدالتی کارروائی میں ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

دوسری جانب لندن کے میئر صادق خان نے بورس جانسن سے ان کے اس بیان کے بعد مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم ماحولیات کے وزیر مائیکل گوو نے کہا ہے کہ تنقید کا محور ایران ہونا چاہیے نہ کہ بورس جانسن۔

واضح رہے کہ مسز نازین زغاری ریٹکلف کو ایران میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر ایران نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ ان پر الزام کیا ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ نازنین پر الزام ہے کہ انھوں نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔

نازنین نے اپنے اوپر لگے تمام الزام کو مسترد کیا تھا تاہم وہ اپریل 2017 میں اپنی آخری اپیل میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

وہ تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن اور بی بی سی میڈیا ایکشن کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کہنا تھا کہ ان کا 2016 کا دورہ ایران اس لیے تھا کہ ان کی بیٹی اپنے نانا نانی سے مل سکے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ نے خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو فون کیا اور انھیں بتا دیا ہے کہ ان کے الفاظ یہ 'جواز فراہم نہیں کرتے' کہ مسز نازنین ریٹکلف کی سزا میں اضافہ کیا جائے۔ مسٹر جانسن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے اس سال کے آخر تک ایران کا دورہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں