سعودی عرب میں آزاد ہوں اور بہت جلد لبنان واپس چلا جاؤں گا: سعد حریری

سعد حریری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعد حریری کے مطابق وہ اپنے استعفیٰ سے لبنان کی عوام کو ایک’مثبت صدمہ‘ دینا چاہتے تھے

لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے تحفظ کی خاطر استعفیٰ دیا اور آئندہ چند دنوں میں سعودی عرب سے واپس لبنان لوٹ جائیں گئے۔

ایک دن پہلے سنیچر کو لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاض میں ایک ہفتہ قبل مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم سعد حریری کی صورتحال کے بارے میں وضاحت کرے۔

اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعد حریری نے فیوچر ٹی وی کو بتایا کہ’ وہ آزاد ہیں اور بہت جلد لبنان واپس چلے جائیں گے۔‘

سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟ بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہ

حریری کے استعفے کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا ہے: ایران

لبنانی وزیرِ اعظم کا ’جان کے خطرے‘ کی وجہ سے استعفیٰ

ایران براہ راست جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے: محمد بن سلمان

سعد حریری نے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے استعفیٰ دیے دیا ہے اور میں بہت جلد لبنان واپس جا رہا ہوں اور وہاں آئینی طریقے سے مستعفی ہوں گا۔‘

انٹرویو میں سعد حریری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ وہ سعودی عرب کے دباؤ یا دھمکی کی وجہ یہ سب کر رہے ہیں۔

سعد حریری نے اعتراف کیا کہ انھوں نے معمولی حالات میں استعفیٰ نہیں دیا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے ملک کو ایک ’مثبت صدمہ‘ پہنچے۔ خیال رہے کہ لبنان کے صدر ميشال عون نے ابھی تک سعد حریری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔

سعد حریری نے رواں ماہ کے شروع میں اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی تھی اور اس اعلان کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے تھے جس کے بعد ایران اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

سنیچر کو لبنانی صدر ميشال عون نے کہا تھا کہ ’ایک ہفتہ قبل وزیراعظم سعد حریری کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد سے ان کی حالت کے بارے میں ابہام کی کیفیت موجود ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ان کی جانب سے کیے گئے یا ان سے منسوب تمام اقدامات اور موقف سچائی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔‘

لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ کیوں ایک ہفتہ قبل ریاض میں مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے وہ واپس لبنان نہیں لوٹے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اتوار کو سعد حریری کی واپسی کے حق میں بیروت میں جلوس نکالا گیا

لبنان کے ایک سینیئر اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ’صدر عون نے جمعے کو غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک گروپ کو بتایا ہے کہ سعد حریری’ کو اغوا‘ کیا گیا تھا۔‘

تاہم ان کے بیان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن فرانس کے وزیر خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ’ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ( سعد حریری) نقل و حرکت کرنے اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔‘

سعد حریری وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے دوبارہ منظرعام پر نہیں آئے تھے۔

خیال رہے کہ جمعے کو امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو استعفی کے لیے مجبور نہیں کیا اور نہ ہی انھیں یہ تاثر ملا ہے کہ سعد الحریری نے اپنی مرضی کے بغیر استعفیٰ دیا ہے۔

اس کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ نے اُن ممالک کو خبردار کیا تھا جو بقول ان کے لبنان کو اپنی جنگ لڑنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ لبنان کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے

ایران کی سعودی عرب کو تنبیہ،’پہلے اپنے مسائل حل کریں‘

فرانسیسی صدر اچانک سعودی عرب کے دورے پر کیوں؟

محمد بن سلمان کا راستہ خطے کے لیے پر خطر

اسی دن ایک ٹیلی ویژن تقریر میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصرالله نے زور دیا کہ حریری کا استعفیٰ لبنانی سیاست میں 'بے مثال سعودی مداخلت' تھی اور سعودی حکومت نے لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کو ان کی مرضی کے خلاف وہاں رکھا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ادھر فرانس کے صدر نے جمعرات کو سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ انھوں نے سعودی حکام کے ساتھ یمن کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا اور لبنان میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

خدشہ ہے کہ لبنان سعودی عرب اور ایران کے درمیان وسیع علاقائی تنازع مزید الجھ سکتا ہے کیونکہ سعد حریری کے مستعفیٰ ہونے کے بعد سے تینوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔

طاقتور شیعہ تحریک حزب اللہ ایران کی حمایتی ہے جس نے سعودی عرب پر لبنان اور اس خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں