میانمار: مسلمانوں اور بودھوں میں کشیدگی کیوں؟

برگد جیسے ایک بڑے سے درخت کے نیچے کچھ پوسٹر آویزاں ہیں اور ایک بدھ راہب ایک ہیجان انگیز تصویر کو غصے سے دیکھ رہا ہے۔

ان تصاویر میں مبینہ طور پر 'مسلمانوں کے ظلم اور بربریت کے شکار' بدھ مت کے لوگ دکھائے گئے ہیں۔

سٹیل کی صاف شفاف بینچ پر تین نوجوان بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ بین الاقوامی اخبارات اور میگزین میں روہنگیا بحران کی خبریں پڑھ رہے ہیں۔

میانمار کے مانڈلے شہر میں یہ شدت پسند بدھ مت راہب اشن وراتھو کے مٹھ (خانقاہ) کا آنگن ہے۔

گذشتہ دو دنوں میں میں یہاں سات بار آ چکا ہوں لیکن اس مٹھ کے 'سپہ سالاروں' نے مجھے مایوس ہی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا‘

٭ ’میانمار کی فوج اور پولیس انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث‘

انھوں نے ہر بار یہی کہا: 'آپ بی بی سی سے ہوں یا کہیں اور سے۔ آپ سے بات نہیں کریں گے وہ۔'

یہ وہی وراتھو ہیں جنھیں ٹائم میگزین نے 'فیس آف بدھسٹ ٹیرر' قرار دیا تھا اور میانمار حکومت نے ان کی بدھ مت تنظیم پر پابندی لگا دی ہے۔

اس کی وجہ وراتھو کی جانب سے 'میانمار میں رہنے والے مسلمانوں کو ملک سے نکال دینے کی دھمکیاں ہیں۔'

Image caption وراتھو کے مٹھ کے باہر کا منظر

اشن وراتھو کی شعلہ بیانیوں نے داش چن چین یی جیسوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے جو ان کے مٹھ سے زیادہ دور نہیں رہتیں۔

ان کی تین نسلیں مانڈلے میں رہتی آئی ہیں اور مصنف اور شاعر ہونے کے علاوہ ان کا تعلق مسلم اقلیتی برادری سے بھی ہے۔

چین یی نے کہا: 'پہلے یہاں مذہبی ہم آہنگی تھی لیکن اب سب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ بڑھتی ہوئی دوریوں اور مذہب کی بنیاد پر منقسم لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بدھ مت کے زیادہ تر پیروکار اچھے ہیں۔ لیکن بعض رہنما بہت جارحانہ بات کرتے ہیں۔ امید کرتی ہوں کہ یہ سب یہیں رک جائے۔'

اس شہر میں ہر دور میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد رہے ہیں۔ لیکن اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور اس کا سبب سنہ 2014 میں ہونے والا تشدد ہے جس میں بدھ مت کے ماننے والے اور مسلمان دونوں کی جانیں تلف ہوئیں۔

Image caption مانڈلے کی بدھ مت کی اعلیٰ ترین کمیٹی کے ارکان

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مانڈلے میں مبینہ طور پر بدھ مت کے نوجوانوں نے مسلم علاقوں پر حملہ کیا تھا جس کے سبب مسلم برادری خود میں ہی سمٹتی جا رہی ہے۔

مسلم محلوں میں داخلے کے مقامات پر فولاد کے دروازے اور خاردار تار لگے ہیں۔ یہ دروازے رات کو بند کر دیے جاتے ہیں۔

ایک شام میں مانڈلے کے راہبوں کی اعلیٰ ترین کمیٹی کے بااثر لوگوں سے ملنے گیا۔ حال ہی میں رخائن صوبے کے دورے سے واپس آنے والے کمیٹی کے ایک سینیئر رکن یو ایئن دساکا کے مطابق وہاں 'حالات ٹھیک ہیں۔'

ایئن دساسکا نے کہا: 'ہم لوگ شدت پسندی کی باتیں نہیں کرتے۔ ہمارے ملک میں تمام مذاہب کو اپنی بات پیش کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن مذہب اسلام میانمار کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ایسا مذہب نہیں ہے جو دوسرے مذاہب کے ساتھ مل جل کر رہ سکے۔‘

Image caption مسلم شاعرہ داو چن چین یی

بین الاقوامی برادری نے میانمار کی فوج پر 'نسل کشی' کا الزام لگایا ہے اور میری لاکھ کوششوں کے باوجود مجھے رخائن کے تشدد زدہ علاقوں میں نہیں جانے دیا گیا۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ بدھ مذہب کی پیروی کرنے والے ملک کی فوج بھی بدھ مت کے مراکز سے متاثر رہی ہے۔

اسلام کے خلاف بڑھتی انتہا پسندی

گذشتہ چند برسوں کے دوران بدھ مت کی قوم پرستی میں اضافے کے پس پشت مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی شدت پسندی بھی ہے۔

لیکن اکثریتی بدھ برادری کے ساتھ سیاسی جماعتیں بھی اس بات کو مسترد کرتی ہیں۔

Image caption مانڈلے کی مسجد میں لوگ خوفزدہ نظر آئے

فسادات سے سب سے زیادہ متاثر علاقے رخائن میں اراکان نیشنل پارٹی سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے جنرل سیکریٹری اور سابق رکن پارلیمان تنو اونگ چیا نے کہا کہ 'یہ بین الاقوامی میڈیا کی پیداوار ہے۔'

انھوں نے کہا: 'نہیں جناب۔ یہ غلط بات ہے۔ اس ملک میں لوگ اپنے مذہب پر اپنی مرضی سے عمل کرنے کے لیے آزاد ہیں۔یہاں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔ ہاں، روہنگیا مسلمانوں کا مقصد ایک علیحدہ اسلامی ملک قائم کرنا ہے اور کچھ ممالک سے انھیں حمایت بھی حاصل ہے۔

ایک روز دوپہر کو میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون (رنگون) میں مجھے اس مکتبۂ فکر کی حمایت میں ایک جلوس نظر آیا جس میں ہزاروں افراد شامل تھے۔

ان لوگوں نے رخائن صوبے میں جاری فوجی کارروائی کی حمایت میں جلوس نکالا تھا۔

Image caption مانڈلے میں ایک زمانے سے مسلمان آباد ہیں

میں یانگون کے پرانے علاقوں میں بھی گیا جہاں برما سے تعلق رکھنے والے مسلمان کئی سو سال سے آباد ہیں۔

ایک پرانی مسجد کی تصویر لے رہا تھا کہ دو محافظ آ گئے اور انھوں نے کہا کہ 'اندر جا کر امام صاحب سے ملو۔'

اندر جانے پر میں تین افراد کو قدرے سہمے اور تشویش کی حالت میں دیکھا جنھوں نے یہ پوچھا کہ کہیں تصویر لینے سے مسجد یا مسلمانوں کو تو کوئی خطرہ نہیں؟'

دوسری جانب بعض لوگ اس بات پر حیران پریشان نظر آئے کہ چھ لاکھ سے زیادہ افراد کے میانمار سے نقل مکانی پر جمہوریت کے پرستار خاموش کیوں ہیں۔

کھن زو وِن سیاسی معاملات کے ماہر اور تمپادا ٹھنک ٹینک کے ڈائریکٹر ہیں۔

زَو وِن کے مطابق : ’قوم پرستی یا انتہا پسند قوم پرستی بہت چھوٹا لفظ ہے۔ برطانوی دور میں اس کی اہمیت تھی لیکن اب اس نے خوف کا روپ لے لیا ہے۔ ایک طرح سے اسلام کا خوف روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔ زیادہ افسوس یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور برمی افواج بھی اس طرح کی فورسز کو ہوا دے رہی ہے۔'

حقیقت یہ ہے کہ میانمار میں 100 سے زائد نسلی گروہ ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔لیکن اب ایسا نظر نہیں آتا۔ بدھ اکثریت اور مسلم اقلیت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

اور اس کا سبب قوم پرستی کی روز بروز بڑھتی ہوئی گونج ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں