ماؤنٹ آگنگ: بالی میں آتش فشاں کا خطرہ سب سے اونچے درجے پر پہنچ گیا

بالی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماؤنٹ آگنگ سے نکلنے والی راکھ اور دھواں

انڈونیشیا میں حکام نے ماؤنٹ آگنگ کے آتش فشاں پھٹنے کے پیش نظر خطرے کا امکان سب سے اونچے درجے پر کر دیا ہے اور پہاڑ کے اطراف میں متاثرہ علاقے کی حدود بھی بڑھا دی ہیں۔

ساتھ ساتھ جزیرے کا ہوائی اڈہ بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں سیاح یہاں پھنس گئے ہیں۔

حکام کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ اور دھواں پہاڑ کی چوٹی سے بھی تقریباً 11000 فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہے۔ انھوں نے علاقے میں موجود شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تنبیہ کی ہے اور پہاڑ سے نکلنے والے پتھروں سے دور رہنے کو کہا ہے۔

انڈونیشیا کے آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ

بالی کا آتش فشاں پھٹ سکتا ہے، حکام کی وارننگ

آتش فشاں کے پھٹنے کے امکانات:

انڈونیشیا کے نیشنل بورڈ برائے ڈزازسٹر مینیجمینٹ نے آتش فشاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح چھ بجے خطرے کے درجے کو سب سے اونچے درجہ چار تک بڑھا دیا۔

ماؤنٹ آگنگ سے مسلسل دھماکے دار آوازیں آ رہی ہیں انھوں 12 کلو میٹر دور تک سنا جا سکتا ہے اور راکھ اور بھاپ اڑ رہی ہے۔

محکمے نے اپنے فیس بک پیج پر بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'یہ آگ کی شعاعیں رات میں زیادہ صاف نظر آ رہی ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بڑا دھماکہ ہونے والا ہے۔'

ایڈیلیڈ یونی ورسٹی کے ماہر ارضیات مارک ٹنگے نے بی بی سی کو بتایا کہ ماؤنٹ آگنگ کا آتش فشاں اب اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں اس کے اندر موجود لاوا ابل رہا ہے۔ انھوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آتش فشاں کے پھٹنے کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی اور یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ صورتحال کیسے بدلے گی۔

سیاحوں کو خطرہ:

بالی کا جزیرہ سیاحت کے لیے بہت مشہور ہے جہاں خاص طور پر کوتا اور سیمن یاک کے مقام پر بیشتر سیاح جاتے ہیں۔ یہ دونوں مقام آتش فشاں سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Holly pelham
Image caption آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ اور دھویں کے باعث 445 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں

لیکن پہاڑ سے نکلنے والی راکھ اور دھویں کے سبب حکام نے جزیرے کا واحد ہوائی اڈہ پیر سےمنگل تک بند کر دیا ہے۔

ہوائی اڈے کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 445 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس سے 59000 کے قریب سیاح متاثر ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کے ہوٹلوں کی تنظیم نے کہا ہے کہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پھنسے ہوئے سیاح ہوٹلوں میں ایک رات مفت رہ سکتے ہیں۔

مقامی افراد کیسے اس خطرے سے نپٹ رہے ہیں:

مقامی حکام نے آتش فشاں کے خطرے کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقے کی حدود پھیلا دیں ہیں اور پہاڑ سے دس کلو میٹر کی حدود میں رہنے والے تمام شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن تقریباً ایک لاکھ رہائشیوں میں سے اب تک صرف 40000 نے حکومت کے حکم کی تعمیل کی ہے۔

حکام نے مقامی شہریوں میں ماسک بھی فراہم کیے ہیں۔

واضح رہے کہ ماؤنٹ آگنگ سے گاڑھا دھواں پچھلے ہفتے نکلنا شروع ہوا تھا جو کہ 50 برس میں پہلی دفعہ تھا۔ 1963 میں آخری دفعہ ماؤنٹ آگنگ پھٹا تھا جس کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کے جزائر جس جگہ موجود ہیں انھیں 'رنگ آف فائر' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں پر زیر زمین موجود پلیٹیں اکثر آپس میں ٹکراتی ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر زلزلے اور آتش فشاں کا خطرہ رہتا ہے۔ اس خطہ میں 130 سے زیادہ بھڑکتے ہوئے آتش فشاں موجود ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں