سائبیریا میں منفی 50 ڈگری میں بھی سکول جاتے بچے

سردی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہاں پر اب تک کا سرد ترین درجۃ حرارت 1973 میں ریکارڈ کیا گیا جب یہ منفی 65 تک جا پہنچا تھا

روس کے علاقے سائبیریا میں آج کل موسم اس قدر سرد ہے کہ درجۃ حرارت منفی 50 سینٹی تک جا پہنچنا ہے اور ایسے میں طلبہ اب بھی ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے سکول جا رہے ہیں۔

روس کے ساحل پر برف کے قدرتی گولے

منفی 60 درجہ حرارت میں گزرتی جوانی

مقامی خبر رساں ادارے .runews.ykt کے مطابق شمال مشرقی سربیا میں اومیاکون نامی علاقہ اس وقت منجمد ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی ابھی اتنی سردی نہیں ہوئی کہ بچوں کو کمرہ جماعت سے دور کر سکے۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ’جب درجۃ حرارت منفی 52 ہوا تھا تو جماعت اول سے پنجم تک کے طلبہ کو چھٹی دے دی گئی تھی لیکن چونکہ آج درجۂ حرارت منفی 50 ہے تو تمام بچے سکول آئے ہیں۔‘

اومیاکون سے محض 30 کلومیٹر دور جنوب مںی واقع شہر یکوتسک میں منفی 50 ڈگری کو سکول جانے والے طلبہ کے لیے انتہائی سرد موسم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر وہاں بھی درجۂ حرارت منفی 45 تک آجائے تو اگلے دن سے چھٹی ختم ہو جاتی ہے۔

اومیاکون کو سردی کا قطب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کرۂ ارض کے سرد ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اومیاکون کرۂ ارض کے سرد ترین مقامات میں سے ایک ہے

یہاں پر اب تک کا سرد ترین درجۂ حرارت 1973 میں ریکارڈ کیا گیا جب یہ منفی 65 تک جا پہنچا تھا۔

برطانیہ میں بچوں کو سکول نہ بھیجنے کے لیے سردی کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ یہاں بھی حکومتی رہنما اصولوں کے مطابق اگر کام کی جگہوں اور کمروں میں درجۂ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے تو سکول بند کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں