میانمار: پوپ کا اپنی تقریر میں روہنگیا کے ذکر سے اجتناب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار کی حکومت نے روہنگیا کی اصطلاح کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے ان افراد کو ’بنگالی‘ قرار دیا ہے

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے میانمار میں ایک اہم تقریر میں مسلم روہنگیا کمیونٹی کے خصوصی تذکرے کے بغیر 'ہر نسلی گروہ کے احترام' کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے پوپ پر زور دیا تھا کہ وہ اس کمیونٹی کی حمایت میں اس کے لیے معین اصطلاح کا استعمال کریں۔

البتہ ملک میں کیتھولک چرچ نے ان سے کہا تھا کہ اس اصطلاح کے استعمال سے ملک میں کیتھولک عیسائیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

میانمار پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام ہے اور اسی صورتحال کے سبب اگست سے تقریباً 620000 روہنگیا مسلمان ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

روہنگیا کے بارے میں مزید پڑھیے

'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟

آکسفورڈ نے آنگ سانگ سوچی کی تصویر اتار دی

میانمار کی حکومت نے ان افراد کے لیے روہنگیا کی اصطلاح کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے انھیں ’بنگالی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد غیرقانونی طور پر نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش سے آئے تھے اس لیے انھیں ملک کے نسلی گروہوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔

حالانکہ پوپ فرانسس نے روہنگیا مسلمانوں کا براہ راست کوئی حوالہ نہیں دیا لیکن ان کی تقریر نسلی گروہوں کے حقوق کے دفاع کے بارے میں تھی۔

انھوں نے کہا کہ 'میانمار کا مستقبل امن ہونا چاہیے، وہ امن جس میں معاشرے کے ہر رکن کے وقار اور حقوق کا احترام ہو، ہر نسلی گروہ اور اس کی شناخت کا احترام ہو، قانون کی بالادستی کا احترام ہو اور ایک ایسی جمہوری حکومت جس میں ہر فرد اور ہر گروپ کا احترام ہو اور اس میں سب کو جائز حصہ دیا جائے‘۔

پوپ فرانسس نے کہا کہ ’میانمار کا سب سے بڑا خزانہ اس کے لوگ ہیں۔ انھیں بہت مصائب اٹھانے پڑے اور طویل سول تنازعے اور دشمنیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تفرقے کی وجہ سے وہ مصیبتیں اٹھاتے رہیں گے‘۔

'اب جبکہ قوم امن کی بحالی کے لیے کام کررہی ہے، ان زخموں کی شفا یابی ایک اہم سیاسی اور روحانی ترجیح ہونی چاہیے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'مذہبی اختلافات کو تفریق اور بداعتمادی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اتحاد، برداشت اور عقلمندآنہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے قومی تعمیر کے لیے طاقت بنانے کی ضرورت ہے'۔

ماضی میں پوپ فرانسس روہنگیا کی اصطلاح استعمال کرچکے ہیں اور اس وقت انھوں نے انھیں اپنے روہنگیا 'بھائیوں اور بہنوں' کہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار کی 88 فیصد آبادی بودھ جبکہ کل چھ فیصد عیسائی افراد پر مشتمل ہے

رنگون میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ پوپ نے میانمار میں ایک انتہائی قوم پرست بودھ راہب اور مسلح افواج کے کمانڈر سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور وہاں ان کی رائے زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر سے پہلے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کی۔

آنگ سان سوچی نے اپنی تقریر میں براہ راست روہنگیا مسلمانوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ریاست رخائن کی صورتحال نے 'دنیا میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کی‘۔

انہوں نے کہا کہ 'رخائن میں سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل نے مختلف کمیونیٹز کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم، ہم آہنگی اور تعاون کو خراب کیا ہے‘۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم روکنے کے لیے آنگ سان سوچی کی جانب سے کوئی اقدام نہ کرنے کی وجہ سے ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

80 سالہ پوپ فرانسس میانمار کے چار روزہ دورے پر ہیں۔

واضح رہے کہ میانمار کی پانچ کروڑ تیس لاکھ آبادی میں اندازے کے مطابق صرف ایک اعشاریہ تین فیصد افراد کیتھولک ہیں۔ ملک میں 88 فیصد آبادی بودھ مت سے تعلق رکھتی ہے جبکہ کل چھ فیصد افراد عیسائی ہیں۔

بدھ کو پوپ رنگون میں مذہبی رسومات میں شریک ہوں گے جس میں میانمار کے تقریباً دو لاکھ کیتھولک افراد شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اس میں ملک کی تقریباً 40 فیصد کیتھولک کمیونٹی شرکت کرے گی۔

میانمار کے بعد پوپ فرانسس بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک چھوٹے سے گروپ سے ملاقات کریں گے۔

پوپ فرانس کا دورہ میانمار اگست میں وہاں تشدد کے واقعات پھوٹنے سے قبل طے کیا گیا تھا۔ گذشتہ ہفتے ہی میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان سینکڑوں ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا ہے لیکن امدادی اداروں نے ان افراد کی جبری واپسی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں