جاپان میں ’بھوت کشتی‘ سے انسانی ڈھانچے برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جاپانی کوشٹ گارڈز کو اوگا کے ضلع اکیتا میں ایک لکڑی کی کشتی سے آٹھ لاشیں ملی ہیں

جاپانی حکام ان آٹھ افراد کی لاشوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی لاشیں اس لکڑی کی کشتی سے ملی ہیں جو گذشتہ روز اوگا شہر کے قریب ضلع اکیتا کے ساحل پر آ گئی تھی۔

ہلاک ہونے والے افراد کے جسم سے اب گوشت ختم ہو رہا ہے اور صرف ہڈیاں باقی رہ گئی ہے۔

اس سے کئی روز پہلے کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے چند ماہی گیر اسی علاقے میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’شمالی کوریا کے آٹھ ماہی گیر‘ جاپانی ساحل پر پہنچ گئے

اس کشتی پر کوئی زندہ شخص نہیں ملا اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ’بھوت کشتی‘ ہے۔ ایسی بہت سی کشتیاں اکثر اوقات جاپان کے سمندروں میں ڈوب جاتی ہیں۔

عموماً یہ کشتیاں مغربی ساحلی علاقوں سے ملتی ہیں۔

حالیہ واقعے کے حوالے سے جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کا کہنا ہے کہ کشتی کی لمبائی 23 فٹ ہے اور یہ اتوار کو اوگا شہر کے قریب ساحل سے ملی ہے۔ اس کشتی میں سمت معلوم کرنے کے لیے کوئی آلات نصب نہیں تھے۔

پیر کو حکام کو آٹھ افراد کی باقیات اس کشتی سے تلاشی کے دوران ملی تھیں۔

یوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق کوسٹ گارڈز کو شبہ ہے کہ یہ کشتی شمالی کوریا سے ہی آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ہفتے ملنے والی کشتی پر روشن بلب نصب تھے جو عام طور پر مچھلیوں کو متوجہ کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ساڈو نامی جزیرے سے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر دو لاشیں بھی ملی تھیں۔ ان کے پاس موجود چیزوں میں شمالی کوریا کے سگریٹ اور دیگر اشیا شامل تھیں۔

جاپان کی سمندری حدود میں اکثر اوقات شمالی کوریا کی کشتیاں آ جاتی ہیں اور کبھی کبھار جاپانی کوسٹ گارڈ ان ماہی گیروں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار سیلیا ہیٹن کا کہنا ہے کہ اس بھوت کشتی کی یہاں موجودگی کی ایک وجہ بھوک مٹانے اور سمندری خوراک کی بڑی طلب کا ایک نتیجہ ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماہی گیر ضروری آلات کے بغیر اپنی کشتیوں کو سمندر میں لے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب انھیں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ مدد کے لیے رابطہ بھی نہیں کر سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں