سعودی عرب: شہزادہ متعب بن عبد اللہ ’ایک ارب ڈالر‘ کی ڈیل کے بعد رہا

شہزادہ متعب کے علاوہ تین اور افراد کی سعودی حکومت کے رہائی کی شرائط طے پا گئی ہیں۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ متعب کے علاوہ تین اور افراد کی سعودی حکومت کے رہائی کی شرائط طے پا گئی ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں تین ہفتے قبل گرفتار کیے گئے شہزادہ متعب بن عبداللہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ شہزادہ متعب کے سعودی تخت تک پہنچنے کے بارے میں توقع کی جاتی تھی۔ تاہم اب انھوں نے اپنی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ متعیب ان 200 اہم سیاسی اور کارروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جنھیں چار نومبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاں

سعودی مہم سے چھلکتی ولی عہد کی بےرحمی

شہزادہ متعب کے علاوہ تین اور افراد کی سعودی حکومت کے رہائی کی شرائط طے پا گئی ہیں۔

یاد رہے کہ شہزادہ متعب ولی عہد محمد بن سلمان کے کزن ہیں اور وہ سعودی عرب کی نیشنل گارڈ کے سربراہ بھی تھے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے وہ سب سے زیادہ سیاسی طاقت رکھنے والے شہزادے تھے۔

64 سالہ شہزادہ متعب سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں اور انھیں گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل ہی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں نئی انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 11 شہزادوں، چار موجودہ اور ’درجنوں‘ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف سعودی کاروباری شخصیت شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے۔

یہ گرفتاریاں اس انسداد بدعنوانی کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔ اس موقعے پر سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں درجنوں اہم سعودی شخصیات زیرحراست ہیں۔

گرفتار افراد کو دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا۔

یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم بات ہو رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں