کرغزستان کے مذہبی عالم کا مشورہ: ’میں نے دوسری شادی کی ہے، آپ بھی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kaktus media
Image caption جلیلوف ایک معروف مذہبی عالم ہیں

کرغستان کے مذہبی رہنما نے جب یہ اعلان کیا کہ انھوں نے دوسری شادی کر لی ہے اور دوسرے مردوں کو بھی دوسری شادی کا مشورہ دیا تو سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہوگئی۔

نسات میڈیا نامی یو ٹیوب چینل پر مذہبی رہنما چوباک جلیلوف کی ویڈیو شائع کی گئی جس میں وہ انکشاف کرتے ہیں کہ ’میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ وہ ابھی تھوڑی ناراض ہے‘۔

اس ویڈیو کو 60 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’دوسری بیوی‘ کی ویب سائٹ سے خواتین کو بھی ’فائدہ‘

بیوی کی بغیر اجازت دوسری شادی پر قید اور جرمانہ

’میرا کا نکاح پہ نکاح ثابت ہوا تو ذمہ دار وہ خود ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Not Specified

کرغستان کے آئین کے مطابق ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی ہے۔

کرغستان کے 2015 کے انتخابات میں جب یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو قانونی قرار دیا جانا چاہیے تو صرف ایک جماعت نے ہاں میں جواب دیا تھا۔

کئی ممالک میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا غیر قانونی ہے۔ جولائی میں کینیڈا کی سپریم کورٹ نے دو مذہبی رہنماؤں کو سزا دی تھی۔ سابق بشپ ونسٹن بلیکمور نے 24 خواتین سے اور ان کے سابق بہنوئی نے پانچ شادیاں کی ہوئی تھیں۔

جلیلوف کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی دوسری شادی کسی سے چھپا نہیں رہے۔ ان کی دوسری اہلیہ 30 سالہ بیوہ ہیں جن کا ترکی میں ایک بچہ بھی ہے۔ اور جلیلوف دوسرے مردوں کو بھی دوسری شادی کی ترغیب دے رہے ہیں۔

آخر سابق مفتی یہ مشورہ کیوں دے رہے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ کرغز خواتین روس، ترکی اور چین جا رہی ہیں۔

’ان کا کرغزستان میں خیال رکھا جانا چاہیے۔ میں مفلس ہم وطنوں کو خوراک فراہم کر رہا ہوں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو اپنے شوہروں کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دینی چاہیے لیکن سب اس مشورے سے خوش نہیں ہیں۔

وہ خود کہتے ہیں ’میری پہلی بیوی کچھ خفا ہے لیکن میرا خیال ہے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ خفا ہونا اور حسد کرنا اس کا حق ہے‘۔

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے صحیح کیا ہے۔ سلطانوف کا کہنا ہے کہ ’شریعت میں مردوں کو (دوبارہ شادی کرنے کے لیے) پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرغستان کی آبادی تقریباً چھ ملین ہے

بلاگر ڈینیئر عثمان اس بات سے متفق نہیں اور انھوں نے فیس بک پر لکھا کہ ایک سیکولر ریاست اور سول سوسائٹی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

’جلیلوف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ سیکولر ریاست کے قوانین، خواتین کے حقوق، آئین اور ضابطہ فوجداری پر تھوکتے ہیں۔ جلیلوف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کرغزستان میں آئین پہلے نہیں ہے بلکہ قرآن پہلے ہے‘۔

عثمان نے مزید کہا کہ جلیلوف کئی برسوں سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو قانونی قرار دینے کی کوشش میں ہیں لیکن ناکام رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق مفتی اب اس طریقے سے اپنا مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم عثمان کے بلاگ پر ایک صارف نے جواب میں کہا ’آج کل ہر دوسرے مرد کی دو بیویاں ہیں۔ صدر کی دو بیویاں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ عوامی سطح پر اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں جبکہ جلیلوف نے اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور دوسری بیوی کی بھی ذمہ داری لے لی۔ اگر دوسری بیوی کو دوسری بیوی ہونے پر اعتراض نہیں تو مسئلہ کیا ہے؟‘

دوسری جانب ایک اور صارف نے جواب میں مردوں سے استدعا کی کہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر ہی دوسری شادی کریں۔

’دس برسوں میں یہ قانونی ہو جائے گا اور 20 برسوں میں ہم شریعہ کے مطابق رہ رہے ہوں گے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں