بالی وڈ کا دیوانہ دبئی کا عرب شیخ

Image caption سہیل الزرونی روانی سے اردو اور ہندی بولتے ہیں

دبئی کے مقامی عرب تاجر سہیل محمد الزرونی کا دل انڈیا کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ بالی وڈ کے دیوانے ہیں اور ہندی اور اردو ایسے بولتے ہیں کہ جیسے انڈین ہوں۔

حال ہی میں میں دبئی میں ان کے گھر گیا۔ گھر کیا ایک بڑی حویلی تھی جو بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ محل نما اس گھر کا ڈرائنگ روم اتنا بڑا تھا کہ اس پر دلی میں ایک اونچی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

ڈرائنگ روم میں ہر جانب پیلا رنگ تھا جس سے ہر چیز سونے جیسی لگ رہی تھی۔

سہیل محمد الزرونی کا تعلق مشہور عرب تاجر خاندان الزرونی سے ہے جو دبئی کے شاہی خاندان کے بہت قریب ہے۔ وہ دبئی میں 250 گھروں کے مالک ہیں۔

الزرونی سے ملاقات پر میں نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے ہندی اور اردو کہاں سے سیکھی تو ان کا کہنا تھا ’ہمارے کافی انڈین اور پاکستانی دوست ہیں اور زیادہ تر ملازم بھی انڈیا اور پاکستان سے ہی ہیں اور پھر بالی ووڈ تو ہے ہی‘۔

یہ بھی پڑھیے

'اردو میں سوائے محبت کے کچھ نہیں'

’غالب اردو کا پہلا جدید ذہن تھا‘

اردو کا انمول خزانہ، اب سب کی پہنچ میں

Image caption سہیل الزرونی بالی ووڈ کے دیوانے ہیں

بالی وڈ سے محبت

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر روز بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں اور بس اس طرح ہندی سیکھ لی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بالی ووڈ کے دیوانے ہیں اور ہر روز فلمیں دیکھتے ہیں۔ انہیں دلیپ کمار ہمیشہ سے پسند ہیں۔ وہ کپور خاندان سے بہت متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کپور خاندان ایک طرح سے بالی وڈ کا شاہی خاندان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کپور خاندان کی یہ عزت ان کے نام نہیں بلکہ ٹیلنٹ کے سبب ہے جس میں ان کی نئی نسل بھی شامل ہے۔

بالی وڈ کی خبریں پڑھیے

’۔۔۔کیا شاہ رخ اور عامر کو پاکستان کا ٹکٹ کٹوانا ہے؟‘

بالی وڈ میں موسم معافی تلافی کا

بالی وڈ مغرب کو کس رنگ میں دیکھتا ہے؟

عرب امارات کی زبانیں

دبئی ایک طرح سے زبانوں کی کھچڑی بن کر رہ گیا ہے کیونکہ مقامی عربوں کی تعداد بیس سے پچیس فیصد ہے باقی سب غیر ملکی ہیں جن میں انڈینز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایسے میں کیا عربوں کو اپنی زبان کھونے کا خوف نہیں ہے؟

الزرونی کہتے ہیں ’ایسا نہیں ہے۔ عربی پہلی زبان ہے۔ آپ جہاں بھی چلے جائیں سکول، کالج، سرکاری دفاتر میں جتنی بھی انگلش بولی جائے لیکن سرکاری زبان عربی ہی ہے‘۔

Image caption سہیل الزرونی کا گھر کسی محل سے کم نہیں

سہیل الزرونی کا کہنا ہے کہ عربوں کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ جہاں بھی چلے جائیں اپنی زبان اور تہذیب نہیں بھولتے۔

ہندی اور اردو کو فروغ دینے والے بھارتی نژاد پوشکن آغا کہتے ہیں کہ اس ملک میں ہندی کے بغیر کام نہیں چلتا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ہندی اور اردو بہت پہلے سے بولی جاتی ہے۔ اور سہیل الزرونی جیسے لوگ ادب میں بھی بہت دلچسپی لیتے ہیں اور یہاں کامیاب مشاعرے ہوتے ہیں۔

ویسے ہندی سے دبئی کا لگاؤ کافی پرانا ہے۔ الزرونی کہتے ہیں '1971 میں متحدہ عرب امارات بننے سے پہلے دبئی انڈیا سے کافی قریب تھا اور یہاں انڈیا کا روپیہ بھی چلتا تھا اور انڈین مہر بھی۔ اتنا ہی نہیں کشتیوں کے ذریعے انڈیا کے ساتھ درآمد اور برآمدات بھی کی جاتی تھیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پرانے عرب جن میں ان کے دادا اور والد شامل ہیں ہندی اور اردو بولتے تھے۔

Image caption عرب امارات میں انڈین اور پاکستانی شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے

الزرونی حالانکہ بھارتی تہذیب و اقدار کی تعریف کرتے ہیں لیکن بھارت میں گزشتہ کچھ برسوں میں ہونے والے واقعات پر تشویش بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں تمام مذاہب کی عزت کی جاتی ہے۔

الزرونی کو اس بات کا افسوس ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے لوگ اپنی زبان کے بجائے انگلش بولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

’اگر میں ایک عرب ہوکر ہندی یا اردو بول سکتا ہوں تو خود انڈین پاکستانی کیوں نہیں‘۔

اسی بارے میں