سابق یمنی صدر عبداللہ صالح کی مذاکرات کی پیشکش، سعودی عرب کا خیرمقدم

یمن میں لڑائی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یمن میں تقریباً گذشتہ دو برس سے سعودی اتحاد کی سابق صدر صالح اور حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

سعودی عرب کے سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔

عبداللہ صالح کو 2012 میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے تھے اور انھیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔

ایران اور سعودی عرب دست و گریباں کیوں؟

’ریاض، مکہ اور متحدہ عرب امارات ہماری رینج میں ہیں‘

’اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد کسی مذہب یا ملک کے خلاف نہیں‘

علی عبداللہ صالح نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ’ وہ ایک نئی شروعات پر تیار‘ ہیں اگر سعودی اتحاد شمالی یمن کی ناکہ بندی ختم کر دے اور حملے روک دے۔‘

’میں اپنے ہمسایہ ممالک کے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی جارحیت اور ناکہ بندی ختم کریں اور ہم ایک نئی شروعات کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے اس کے ساتھ حوثی باغیوں کی ’ان کی پارٹی کے ارکان پر شرمناک حملے کی مذمت کی‘۔

علی عبداللہ صالح کے ایک ترجمان ہاشم شرف عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے نامناسب رویے کے سبب کیا ہے۔

علی عبداللہ صالح حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر سعودی اتحاد کے ساتھ گذشتہ دو برسوں سے جنگ کر رہے ہیں تاہم گذشتہ بدھ سے سابق صدر صالح کی حامی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے سابق یمنی صدر کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے اور اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے سے یمن کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا سے آزاد کرایا جا سکے گا۔

ایک بیان میں سعودی عرب کا کہنا ہے کہ انھیں اعتماد ہے کہ صالح کی جماعت واپس عرب دنیا میں آ جائے گی۔

تاہم حوثیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ’صالح کی تقریر اتحاد اور شراکت داری کے خلاف بغاوت ہے اور اس فریب کو بے نقاب کیا ہے کہ جو جارحیت کے خلاف کھڑا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔`

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یمن کے دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے شروع میں سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے مطابق اس نے یمن میں حوثی باغیوں کے لیے ایران سے آنے والے اسلحے کا راستہ روکنے کے لیے عارضی طور پر یمن کے تمام فضائی، زمینی اور سمندری راستوں کو بند کر دیا ہے۔

خوراک کی کثرت مگر یمن قحط کے دہانے پر کیوں؟

ایران براہ راست جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے: محمد بن سلمان

اتحاد کے مطابق یہ اقدامات سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنانے کے بعد کیے گئے ہیں۔

سعودی فوجی اتحاد حوثی باغیوں کو 2015 سے نشانہ بنا رہا ہے جب انھوں نے ملک کے دارالحکومت صناء سمیت ملک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور صدر عبدالرب منصور حادی کو فرار ہونے اور پڑوسی ملک سعودی عرب سے مدد مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔

سعودی عرب نے ایران پر حوثی باغیوں کی حمایت اور مدد کا الزام عائد کرتا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔

اسی بارے میں