یمن کے سابق رہنما عبداللہ صالح ’ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایک ویڈیو میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جا سکتا ہے جو عبداللہ صالح جیسا دکھائی دیتا ہے

یمن سے ملنے والی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ ملک کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اپنے سابقہ حامیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔

حوثی باغیوں کے زیرِ کنٹرول ذرائع ابلاغ نے یمن کے سرکاری حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے علی عبداللہ صالح کے مارے جانے کو ’ باغی ملیشیا کے پیدا کردہ بحران کا خاتمہ‘ قرار دیا ہے۔

عربی نیوز چینل العربیہ کے مطابق علی عبداللہ صالح کی اپنی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے بھی اپنے رہنما کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جا سکتا ہے جو علی عبداللہ صالح جیسا دکھائی دیتا ہے اور اس کے سر پر گہرے زخم دیکھے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے تک عبداللہ صالح کے حامی دستے حوثی باغیوں کے شانہ بشانہ ملک کے موجودہ صدر عبدالربو منصور ہادی کے خلاف لڑ رہے تھے، تاہم دارالحکومت صنعا کی مرکزی مسجد پر کنٹرول کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی تھی جس میں گزشتہ ہفتے بدھ کی رات تک 125 سے زیادہ افراد ہلاک اور 238 زخمی ہو چکے تھے۔

اسی دوران سنیچر کو علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب کی قیادت میں صدر ہادی کی حمایت میں لڑنے والے اتحاد کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ یمن پر بمباری روک دیں اور اس کا محاصرہ ختم کر دیں تو وہ باہمی تعلقات میں ایک ’نئے دور کے لیے تیار ہیں۔‘

سعودی اتحاد اور مسٹر ہادی کی حکومت نے عبداللہ صالح کے اس بیان کا خیر مقدم کیا تھا لیکن حوثیوں نے الزام لگایا کہ مسٹر صالح اصل میں اس اتحاد کا ’تختہ الٹ` رہے ہیں جس پر انھوں نے کبھی بھروسہ نہیں کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق مارچ 2015 میں جب سعودی اتحاد نے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت شروع کی تھی اس وقت سے اب تک ملک میں 8670 افراد ہلاک اور 49960 زخمی ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ جنگ اور یمن کے محاصرے کی وجہ سے ملک میں تقریباً 27 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہو چکے ہیں اور یمن میں دنیا میں خوراک کا سب سے بڑا بحران ہے۔ اس دوران یمن میں ہیضے کی شدید وبا پھیلی جس میں اندازہ ہے کہ اس سال اپریل سے اب تک 2211 افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں