بریگزٹ مذاکرات: برطانیہ اور یورپی اتحاد کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ بریگزٹ مذاکرات کو اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے برطانیہ اور یورپی اتحاد کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

تاہم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ 'اختتام ہفتہ سے قبل' اس سلسلے میں مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا 'مجھے پورا اعتماد ہے کہ یہ مذاکرت مثبت معاہدے پر منتج ہوں گے۔'

پتہ چلا ہے کہ برطانیہ اور یورپی اتحاد کے درمیان مذاکرات برطانیہ کی مخلوط حکومت کی کلیدی پارٹی (ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی) ڈی یو پی کے آئرلینڈ کے سرحدی معاملات پر رعایت دینے پر انکار کی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔

تاہم ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ واحد وجۂ نزاع نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'یورپی یونین بریگزٹ مذاکرات کے لیے تیار ہے'

ٹرمپ کے صدر بننے اور بریگزٹ کے بعد یورپ امریکہ، برطانیہ پر انحصار نہیں کر سکتا:میرکل

فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی ہو گی: برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے

ٹریزا مے کی حکومت کو ڈی یو پی کے دس ارکان کی حمایت حاصل ہے اور یہ حمایت ان کی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ٹریزا مے کی جماعت کنزرویٹو پارٹی اکثریت میں نہیں ہے اور اہم ووٹنگ کے دوران اسے ڈی یو پی پر بہت انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ادھر آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم لیوورادکر نے کہا ہے کہ معاہدہ طے پا گیا تھا لیکن لگتا ہے کہ برطانیہ نے بارڈر سے متعلقہ معاملات پر ڈی یو پی کےدباؤ کے بعد اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے۔

انھوں نے ڈبلن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'میں حیران اور مایوس ہوں کہ برطانوی حکومت نے اب اس موقف کو تبدیل کر دیا ہے جس پر آج دن کے اوائل میں اس نے رضا مندی ظاہر کی تھی۔'

مذاکرات ناکام کس طرح ہوئے

خیال کیا جاتا ہے کہ وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے اپنی حلیف جماعت ڈی یو پی کی رہنما آرلین فوسٹر سے بات کرنے کے لیے یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر سے مذاکرات ختم کیے۔

پتہ چلا ہے کہ برطانیہ شمالی آئرلینڈ کے یورپی اتحاد کی کسٹمز یونین اور سنگل مارکٹ رہنے سے متعلق نام کے سوا تقریباً ہر بات پر تیار ہو گیا تھا۔

لیکن اس پر مسٹر فوسٹر نے کہا کہ ان کی جماعت ایسے قواعد کو تسلیم نہیں کرے گی جو شمالی آئرلینڈ کو برطانیہ سے الگ کرتے ہوں۔

'ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت میں وزیرِ اعظم ٹریزا مے سے صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ ڈی یو پی ایسے معاہدے پر تحفظات رکھتی ہے جس کے تحت جمہوریہ آئرلینڈ کو رعایات دینی پڑتی ہوں۔'

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 20 سے 30 کنزرویٹو ارکانِ پارلیمان ایسے ہیں جو مذاکرات میں پیش کیے جانے والے معاہدوں سے خوش نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں