یروشلم: فرانس کے صدر کا دارالحکومت کی منتقلی پر انتباہ

یروشلم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائلی بلاشرکت غیر یروشلم کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنے مستقبل کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ انھیں یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے منصوبے پر 'تشویش' ہے۔

میکخواں نے کہا کہ شہر کی متنازع حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کے دائرۂ کار' کے اندر ہونا چاہیے۔

اس سے قبل کئی عرب اور مسلم ممالک نے اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر رواں ہفتے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

٭ ’یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے‘

٭ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے منصوبے پر محمود عباس ناراض

خیال رہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس شہر کے اپنا دارالحکومت ہونے کا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی میں تاخیر کے دستاویزات پر دستخط کے لیے پیر کی ڈیڈ لائن کی پاسداری نہیں کر پائيں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption ایسلی پیلس نے بتایا ہے کہ صدر امینیول میکخواں نے صدر ٹرمپ کو فون کرکے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے

لیکن وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگان گڈلی نے زور دے کر کہا کہ 'صدر روز ازل سے ہی اس معاملے میں واضح ہیں: یہ اگر مگر کا معاملہ نہیں بلکہ کب ہو گا کا معاملہ ہے۔'

سنہ 1995 میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی امریکی کانگریس سے منظوری کے بعد صدر ٹرمپ سمیت تمام امریکی صدور نے ہر چھ ماہ کی مدت پر اس دستاویز پر دستخط کیا ہے جس میں منتقلی میں تاخیر کی بات کہی گئی ہے۔

یروشلم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تنازعے کی جڑ ہے اور عالم اسلام اور عرب دنیا فلسطین کے دعوے کی حمایت کرتی ہے۔

یہ شہر اور بطور خاص مشرقی یروشلم یہودی، مسلمان اور مسیحی برادری کے مقدس مقامات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ اسرائیل مخالف ووٹ: اسرائیل نے امریکی سفیر طلب کر لیا

٭ اعلامیہ جس نے عرب اسرائیل تنازعے کو جنم دیا

٭ ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اس حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ پورے شہر کو بلا شرکت غیر اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے۔

فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنے مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سنہ 1993 کے معاہدے میں اس کی حیثیت بعد میں ہونے والے امن مذاکرات میں طے کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی بی سی کے امریکی وزارتِ خارجہ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان اصل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ایک انتخابی وعدے کو پورا کیا جانا ہو گا

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے یروشلم پر اختیار کو کبھی قبول نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیل کے قریب ترین حلیف امریکہ سمیت تمام ممالک کے سفارت خانے ابھی تک تل ابیب میں ہی ہیں۔

سنہ 1967 کے بعد سے اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں کئی بستیاں آباد کی ہیں جن میں دو لاکھ یہودیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ تعمیرات غیر قانونی ہیں۔

اگر امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی برادری سے علیحدہ اسرائیل کے دعوے کی تائید کرے گا کہ مشرق میں تعمیر ہونے والی اسرائیلی آبادیاں جائز ہیں۔

بین الاقوامی رد عمل

سعودی عرب نے پیر کو کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حتمی تصفیے سے قبل ایسا کوئی قدم 'امن مذاکرات پر مضر اثرات مرتب کرے گا۔'

فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی رہنماؤں سے مداخلت کی اپیل کی ہے کہ اس قسم کا امریکی فیصلہ 'امن کے عمل کو تباہ کر دے گا۔'

اردن نے اس کے 'سنگین نتائج' پر متنبہ کیا ہے جبکہ عرب ليگ کے سربراہ ابوالغیث نے کہا کہ اس قسم کے اقدام سے تشدد اور مذہبی جنون کو تقویت ملے گی۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم بکیر بوزداغ نے کہا ہے کہ اس سے بڑی تباہی آئے گی۔

اسی بارے میں