روحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے متوقع اعلان کو ’مسلم دنیا کے خلاف‘ ایک نیا منصوبہ قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ پیغام کے مطابق 'آج، دشمنوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے اور انھوں نے قدس (یروشلم) کی آزادی کے عظیم مقصد کو نشانہ بنایا ہے‘۔

ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے یہ بات بدھ کو تہران میں منعقدہ تین روزہ اسلامی یکجہتی کانفرنس کے شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ 'قدس مسلمانوں اور فلسطین کا ہے۔ یہ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی لوگوں کی سوچ اور جذبات کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔ یہ خطے میں عالمی تکبر کی نئی مہم ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

’خطرے کی حد‘ پر ترکی کا امریکہ کو انتباہ

امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے سنگین نتائج نکلیں گے

دوسری جانب فلسطینیوں نے اس عمل کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ’موت کا بوسہ‘ قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام وزارتِ خارجہ کو حکم دیں گے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے خطاب میں اس فیصلے کی تصدیق کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ میں فلسطین کے نمائندے مینوئل حسسیان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کی یروشلم کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی امن کی کوششوں کے لیے ’موت کا بوسہ‘ ہے اور ’اعلان جنگ‘ جیسا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آخری تنکا ہے جو اونٹ کی کمر توڑ دے گا‘۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا مطلب روایتی جنگ نہیں ہے بلکہ سفارت کاری کے حوالے سے جنگ ہے‘۔

یہ فیصلہ یروشلم کے بارے میں برسوں پر محیط امریکی پالیسی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے منافی ہے۔ عرب ملکوں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تشدد بھڑک سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر صرف ایک حقیقت کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں کہ یروشلم عملی طور پر اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا بھی دارالحکومت ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے منگل کو متعدد علاقائی رہنماؤں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی رہنما کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے ’دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارا سینڈرز کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر صدر ٹرمپ کی سوچ ’بہت مضبوط‘ ہے۔

بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔

اگر امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ ریاست کے سنہ 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہو گا۔

دریں اثنا امریکی حکومت کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو یروشلم کے پرانے شہر اور مغربی کنارے میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ذاتی سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی رد عمل کیا رہا ہے؟

ان خبروں کے بعد کہ صدر ٹرمپ بدھ کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں، انھیں دنیا کے متعدد ممالک سے رد عمل کا سامنا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا: ’ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا: ’یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔‘

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورتِ حال کو پیچیدہ نہ کریں۔‘

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔

عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابو الغیث نے متنبہ کیا 'یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔'

سعودی عرب نے کہا: 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔'

اسی بارے میں