حماس کا انتفادہ کا اعلان، غربِ اردن اور غزہ میں جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے رد عمل میں مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر فلسطینی آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کم از کم ایک فلسطینی فائرنگ سے زخمی ہوا۔

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے انتفادہ کی کال کے بعد اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

امریکی اعلان کے خلاف غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے ہڑتال کی اور سڑکوں پر احتجاج کیا۔

مزید پڑھیے

حماس کا اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہ

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

22 سال سے سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق غربِ اردن کے علاقے الخلیل اور البيرہ میں ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ’یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے‘ کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں درجنوں مظاہرین اسرائیلی سرحدی دیوار کے قریب جمع ہوئے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا۔

فلسطینی طبی حکام کے مطابق دو فلسطینی گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

تاہم اسرائیلی فوج کی ترجمان نے اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

ایک نیا انتفادہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ اعلان اسماعیل ہنیہ نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف انتفادہ کی دو تحریکیں چلائیں جا چکی ہیں۔

عالمی ردعمل

امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی صدر نے بدھ کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ 'بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ' ہے اور 'یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی' ہے۔

مزید پڑھیے

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

روحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے 'اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔'

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فیصلے کے حوالے سے رواں ہفتے کے اختتام تک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

فرانس، بولیویا، مصر،اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یوراگوائے نے اس ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے جو جمعے کو منعقد ہو گا اور توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس اجلاس سے خطاب کریں گے۔

سعودی عرب میں حال ہی میں اپنے استعفے کا اعلان کرنے کے بعد رواں ہفتے اسے واپس لینے والے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا 'ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ 'صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔'

انھوں نے مزید کہا 'یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔'

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا 'صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔'

اسی بارے میں