فلسطینی حکام کو تنبیہ،’نائب امریکی صدر سے ملاقات منسوخ کرنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے`

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وائٹ ہاؤس کی جانب سے فلسطینی حکام کو تنبیہ کی ہے کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات منسوخ کرنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی حکام نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ ہونے والی ملاقات اب نہیں ہو گی اور امریکی نائب صدر کو فلسطینی علاقوں میں خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔

انتفادہ کا اعلان: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق نائب صدر پینس اپنے دورے میں فلسطینی رہنما سے ملاقات کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس ملاقات کا نہ ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نائب صدر پینس اس دورے میں اسرائیل اور مصر بھی جائیں گے۔

محمود عباس کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

فلسطین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر کے اعلان کے بعد فلسطینی وزیر اعظم محمود عباس (بائیں جانب) نے عمان میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے ردعمل میں مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر فلسطینی آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کم از کم ایک فلسطینی فائرنگ سے زخمی ہوا۔

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے انتفادہ کی کال کے بعد اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

امریکی اعلان کے خلاف غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے ہڑتال کی اور سڑکوں پر احتجاج کیا۔

مزید پڑھیے

حماس کا اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہ

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

22 سال سے سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

ایک نیا انتفادہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ اعلان اسماعیل ہنیہ نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف انتفادہ کی دو تحریکیں چلائیں جا چکی ہیں۔

عالمی ردعمل

امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی صدر نے بدھ کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ 'بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ' ہے اور 'یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی' ہے۔

مزید پڑھیے

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

روحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے 'اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔'

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فیصلے کے حوالے سے رواں ہفتے کے اختتام تک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

فرانس، بولیویا، مصر،اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یوراگوائے نے اس ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے جو جمعے کو منعقد ہو گا اور توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس اجلاس سے خطاب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ 'صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔'

انھوں نے مزید کہا 'یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔'

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا 'صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔'

اسی بارے میں