ڈیجٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں زبردست اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بٹ کوآین کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس اختتامِ ہفتہ پر اس کی فیوچرز مارکیٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

جمعے کے روز ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت کا شدید اتار چڑھاؤ جاری رہا اور چند لمحوں کے لیے اس کی قیمت 17 ہزار امریکی ڈالر کراس کر گئی تھی تاہم پھر اس میں 2500 امریکی ڈالر کی کمی ہوئی۔

کوائن ڈیسک ڈاٹ کام کے مطابق اس کی قیمت 14 فیصد کمی کے بعد 14500 ڈالر تک گر چکی ہے۔

یاد رہے کہ اس ہفتے کے دوران بٹ کوائن کی قیمت 70 فیصد تک بڑھی ہے اور اس کی قیمت میں ڈرامائی اضافے کو بغیر بریک کے ٹرین سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس صنعت سے منسلک ایک گروپ کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کے فیوچرز میں تجارت کے منصوبے شاید قبل از وقت ہیں۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک مالیاتی ببل ہے جیسا کہ ڈاٹ کام بوم تھا تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی قیمت میں اضافہ اس وجہ سے ہے کہ اب یہ مالیاتی آلات کے مرکزی دھارے میں آ رہا ہے۔

بٹ کوآین کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس اختتامِ ہفتہ پر اس کی فیوچرز مارکیٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

بٹ کوائن فیوچرز اس اتوار سے شکاگو کی فیوچرز ایکسچینج میں متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ادھر دنیا کی سب سے بڑی فیوچرز ایکسچینج سی ایم ای بٹ کوائن فیوچرز آئندہ ہفتے شروع کر گی۔

تاہم وال سٹریٹ کے اہم ترین بینکاروں اور تاجروں کی تنظیم فیوچرز انڈسٹری ایسوسی ایشن نے امریکی حکام سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بٹ کوائن کے معاہدوں کو بغیر مکمل جانچ پڑتال کے منظور کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ گولڈ مین سیکس اس تنظیم کا رکن بینک ہے یہ وہی بینک ہے جو کہ کچھ صارفین کے لیے بٹ کوائٹ فیوچرز کی تجارت میں سہولت کار کا کام کرے گا۔

بینک کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بینک نے اپنی جانچ پڑتال کے دوران اس کرنسی کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لیا ہے۔

واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت میں قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے اب تک بڑے سرمایہ کاروں نے اس میں پیسے نہیں ڈالے ہیں۔

تاہم بٹ کوائن فیوچرز مارکیٹ کے سامنے آنے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسے کافی حد تک زیرِ قانون یا ریگیولیٹڈ مانا جائے گا۔

اسی بارے میں