’یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ انتہا پسندی کو ہوا دے گا`

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں 25 افراد زخمی ہوئے ہیں

سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے ایک سابق سربراہ نے امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد تنبیہ کی ہے کہ یہ فیصلہ'انتہا پسند گروہوں کے لیے آکسیجن' کا کردار ادا کرے گا جس کے بعد 'انھیں سنبھالنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔'

بحرین میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی خفیہ ادارے کی 24 سال تک سربراہی کرنے والے شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بیان دیا ہے۔

کانفرنس میں موجود بی بی سی کے نمائندے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے خطے میں وسیع پیمانے پر خدشات ہیں کہ امریکی اعلان کے بعد ایران کے علاوہ شدت پسند گروہ دولتِ اسامیہ اور القاعدہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی کو اس تقریب سے خطاب کرنا تھا لیکن انھوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیاں امریکہ پر حاوی

اقوامِ متحدہ اسرائیل کا بد ترین دشمن ہے: امریکہ

سوشلستان:’اسلام کو یہودیت سےمسئلہ نہیں‘

فلسطینی حکام ملاقات منسوخ کرنے سے باز رہیں: امریکہ

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ سے راکٹ فائر کیے جانے کے جواب میں فلسطین کے عسکری گروپ حماس کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح کی جانے والی کارروائیوں میں ہتھیار تیار کرنے والے ایک مرکز اور اسلحے کے گودام کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے پہلے جمعے کو غزہ سے داغے جانے والے تین راکٹ اسرائیل کے علاقے سدیروت میں گرے تھے۔

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حماس کی جانب سے انتفادہ کی کال کے بعد اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے ردعمل میں جمعے کو غزہ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دو فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹرمپ مخالف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے

جمعے کو ہی اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے غزہ سے فائر کیے جانے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا اور اس کے علاوہ ایک میزائل سدیروت میں ایک ویران مقام پر گرا تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعے کو حماس کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے جن میں 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ سدیروت پر میزائل داغے جانے کے چند گھنٹے بعد سنیچر کو علی الصبح مزید فضائی حملے کیے گئے تاہم ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

گذشتہ روز ہی حماس کے سینیئر رہنما فتح حماد نے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا چاہتا ہے کہ تو وہ فلسطین کا دشمن تصور ہو گا۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی جانب سے فلسطینی حکام کو تنبیہ کی گئی کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات منسوخ کرنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

اعلانِ یروشلم کے بارے میں مزید پڑھیے

فلسطینیوں کی تنہائی اور ٹرمپ کا رقصِ تلوار

انتفادہ کا اعلان: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

22 سال سے سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے تناظر میں فلسطینی حکام نے کہا تھا کہ اس ماہ ہونے والی ملاقات اب نہیں ہو گی اور امریکی نائب صدر کو فلسطینی علاقوں میں خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے الزام لگایا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے درمیان امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کے ان مراکز میں سے ایک ہے جو اسرائیل دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ اس فیصلے پر امریکہ کو عالمی سطح پر شدید مذمت کا سامنا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اسرائیل، امریکہ مخالف اور فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں