دولتِ اسلاميہ کے خلاف جنگ ميں مکمل فتح حاصل کرلی ہے: عراقی وزیراعظم

عراق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2014 ميں اِس شدت پسند گروہ نے موصل، رقہ اور کئی دوسرے شہروں پر قابض ہونے کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کرديا تھا

عراقی وزيراعظم حيدرالعبادی نے اعلان کيا ہے کہ عراقی افواج نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلاميہ تنظيم کے خلاف جنگ ميں مکمل فتح حاصل کرلی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے ميں دولتِ اسلاميہ کو پےدرپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عراقی دستوں نے اُن کے زيرقبضہ تمام چھوٹے بڑے شہروں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرليا ہے۔

وزيراعظم حيدرالعبادی نے دارالحکومت بغداد ميں ايک نيوز کانفرنس ميں بتايا کہ گذشتہ ماہ نومبر ميں سرحدی قصبے راوا کو بازياب کرانے کے بعد دولتِ اسلاميہ سے اُس کا آخری اڈہ بھی فتح کر ليا تھا۔ وزيراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ اُن کی فوج نے اب عراق اور شام کی سرحد کا مکمل کنٹرول بھی حاصل کرليا ہے جہاں کچھ عرصے پہلے تک دولتِ اسلاميہ کئی علاقوں پر قابض تھی۔

یہ بھی پڑھیں!

عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

عراق میں دولت اسلامیہ کے جوابی ہتھکنڈے

عراق کی بس یہی کہانی ہے

وزيراعظم حيدرالعبادی کا کہنا تھا کہ دشمن عراقيوں کی تہذيب کو مٹانا چاہتا تھا ليکن عراقيوں کے عزم اور حوصلے نے بہت کم وقت ميں اِس کوشش کو ناکام بناديا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزيراعظم العبادی نے کہا کہ اُن کی فوج نے اب عراق اور شام کی سرحد کا مکمل کنٹرول بھی حاصل کرليا ہے

گذشتہ ماہ شامی حکام نے بھی دعوٰی کيا تھا کہ انھوں نے سرحدی قصبے البوکمال کو دولت اسلاميہ سے آزاد کراليا ہے جو شام ميں اُن کا آخری گڑھ تھا۔ عراقی وزيراعظم حيدرالعبادی کے اس اعلان سے صرف دو روز پہلے شام ميں روسی حکام نے بتايا تھا کہ انھوں نے دولتِ اسلاميہ کو شکست دينے کا اپنا آپريشن مکمل کرليا ہے۔

سنہ 2014 ميں اِس شدت پسند گروہ نے موصل، رقہ اور کئی دوسرے شہروں پر قابض ہونے کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کرديا تھا۔ عراق اور شام ميں دولتِ اسلاميہ کے زيرقبضہ علاقوں ميں تقريباً ايک کروڑ لوگ آباد تھے۔

تاہم گذشتہ دو برسوں ميں اِسے پےدرپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اِس برس جولائی ميں اُسے عراقي شہر موصل اور شام ميں اپنے خودساختہ دارالحکومت رقہ سے بھی بھاگنا پڑا تھا۔ دولت اسلاميہ کے بہت سے جنگجو شام کے دوردراز علاقوں کي طرف نکل گئے تھے جبکہ خاصی تعداد ترکی کی جانب بھاگ گئی تھی۔

اسی بارے میں