امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے: عرب لیگ

عرب لیگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عرب لیگ نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر دے کیونکہ اس سے خطے میں تشدد میں اضافہ ہو گا۔

قاہرہ میں عرب ممالک کے 22 وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو کیا گیا اعلان ’عالمی قوانین کی خطرناک خلاف ورزی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘

عرب لیگ کی جانب سے یہ اعلامیہ مصر کے مقامی وقت صبح تین بجے جاری کیا گیا۔

’اعلانِ یروشلم انتہا پسندی کو ہوا دینے کا سبب بنے گا‘

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

22 سال سے سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کے پورے یروشلم پر دعوے کو تسلیم کیے جانے سے امریکہ کی اس پالیسی کے منافی ہے جس کے تحت یروشلم کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہونے چاہیے۔

عرب لیگ کا مزید کہنا ہے کہ ’امریکہ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔۔۔ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا، غصہ اور بھڑکے گا اور خطرہ ہے کہ خطے میں مزید تشدد اور افراتفری پھیلے گی۔‘

22 عرب ممالک کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں قرارداد منظور کرائی جائے گی۔

تاہم عرب لیگ کے اعلامیے میں امریکہ کے خلاف معاشی پابندیوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل اجلاس کے دوران لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسل کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے سے روکنے کے لیے عرب ممالک کو امریکہ پر معاشی پابندیاں عائد کرنی چاہیئں۔

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف اقدامات لینے ضروری ہیں۔ شروع میں سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی، پھر سیاسی اور پھر معاشی اور مالی پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔‘

اس سے قبل عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کے آغاز پر عرب لیگ کے سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو ’خطرناک اور ناقابل قبول‘ قرار دیا اور کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے سیاسی حل پر حملہ ہے۔

قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں عرب ممالک کے 22 وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔

احمد ابو الغيط نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ ’بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے لیے امریکی کوششوں پر سوال اٹھاتا ہے‘۔

’امریکی پالیسی میں تبدیلی سے ٹرمپ انتظامیہ پر عرب ممالک کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

اسی بارے میں