لبنان: اعلانِ یروشلم کے خلاف امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرے اور جھڑپیں

بیروت، اسرائیل، امریکہ،مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اعلانِ یروشلم کے خلاف لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے کے قریب سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرین احتجاج کر رہے تھے اور انھوں نے سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کی۔

ادھر عرب لیگ نے امریکہ پر زود دیا ہے کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرے کیونکہ اس سے خطے میں تشدد میں اضافہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ یروشلم سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے‘

’اعلانِ یروشلم انتہا پسندی کو ہوا دینے کا سبب بنے گا‘

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

قاہرہ میں عرب ممالک کے 22 وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو کیا گیا اعلان عالمی قوانین کی خطرناک خلاف ورزی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘

عرب لیگ کی جانب سے یہ اعلامیہ مصر کے مقامی وقت صبح تین بجے جاری کیا گیا۔

عرب لیگ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا پورے یروشلم پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا جانا امریکہ کی اس پالیسی کے منافی ہے جس کے تحت یروشلم کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہونے پر عالمی سطح پر اتقاق تھا۔

عرب لیگ کا مزید کہنا ہے کہ ’امریکہ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا، غصہ اور بھڑکے گا اور خطرہ ہے کہ خطے میں مزید تشدد اور افراتفری پھیلے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرب لیگ کے اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس یکہ طرفہ فیصلے کی مذمت کی گئی

لبنان میں امریکی سفارت خانہ بیروت کے شمال میں موجود ضلع اوکار کے قریب واقع ہے۔ یہاں کی گلیوں میں موجود مظاہرین نے آگ لگائی اور پتھراؤ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے امریکی سفارتخانے کی جانب جانے والے مرکزی راستے کو بند کر دیا تھا۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بھی امریکی سفارت خانے کے باہر ہزاروں افراد نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کے ہاتھوں میں موجود بینرز پر یہ جملہ تحریر تھا کہ ’فلسطین ہمارے دلوں میں ہے۔‘

سویڈن کے شہر گوتھنبرگ میں سنیچر کی رات گئے ایک جلتی ہوئی چیز کو یہودیوں کی عبادت گاہ پر پھینکا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آگے لگانے کی یہ کوشش ناکام رہی تاہم یہودی کمیونٹی کے ایک رہنما ایلن سٹٹزنسکے نے انپے بیان میں اسے ’بڑا خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں