نیویارک میں بس ٹرمینل پر دھماکہ، ایک شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیو یارک پورٹ اتھارٹی کے بس ٹرمینل کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا

نیویارک میں مین ہیٹن کے علاقے میں نیویارک پورٹ اتھارٹی کے بس ٹرمینل پر پیر کی صبح مصروف اوقات میں ایک دھماکہ ہوا جس کے بعد پولیس نے زخمی حالت میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔

نیویارک میں دھماکے بعد کے نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ 'ہم دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نیو یارکرز ہیں۔'

مزید پڑھیئے

نیو یارک حملہ: سیف اللہ سائپوف کون ہیں؟

اللہ اکبر کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر مقبول

حراست میں لیا جانے والا مشتبہ شخص زخمی تھا۔ فائر حکام کا کہنا ہے چار افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم کسی کی جان خطرے میں نہیں ہے۔

حکام کے مطابق 27 سالہ مشتبہ شحض جس کا نام عقائد اللہ بتایا گیا ہے بنگالی ہے جس نے دھماکہ خیز آلہ اپنے جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عقائد اللہ نامی شحص زمین پر پڑا ہے۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور اس کے جسم کے اوپری حصے پر زحموں کے نشانہ ہیں۔

بل ڈی بلاسیو کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص بظاہر اکیلا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک میں دھماکے کی آواز مین ہیٹن کے مصروف بس ٹرمنل سے آئی

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لینے کی تصدیق تو کی ہے لیکن دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے میں پائپ بم استعمال کیا گیا جو پورٹ اتھارٹی کے ٹرمینل کی زیر زمین گزر گاہ میں پھٹا اور حراست میں لیے گئے شخص سے ایک اور پائپ بم برآمد بھی کیا گیا ہے۔

پورٹ اتھارٹی کے حکام نے ٹوئٹر پرایک پیغام میں کہا کہ اس بس ٹرمینل کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

پورٹ اتھارٹی پر دھماکے کے وقت موجود ایک مسافر ڈیئگو فرنانڈز نے کہا کہ سیڑھوں پر مسافروں کے باہر نکلنے کی کوشش میں بھگدڑ مچ گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہر شخص خوف کا شکار تھا، بھاگ رہا تھا اور چیخ رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی زیر زمین ٹرینوں کو بھی بند کر دیا گیا

وائٹ ہاؤس اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایک ازبک تارک وطن کی طرف سے نیویارک میں سائیکل سواروں کے لیے مخصوص گزرگاہ پر ٹرک چڑھا دینے کے واقعہ کے دو ماہ بعد ہوا ہے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ستمبر سنہ 2016 میں بھی ایک شخص نے گھریلو ساخت کے بم سے دھماکہ کر کے نیویارک کے چیلسی ڈسٹرک میں دو درجن سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں