سعودی ولی عہد نیتن یاہو کو ریاض آنے کی دعوت دیں: اسرائیلی انٹیلیجنس وزیر

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیلی وزیر برائے انٹیلیجنس کے ترجمان کے مطابق یسرائیل کاٹز نے خواہش ظاہر کی ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کا دورہ کریں جبکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سعودی شاہ سلمان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سرکاری طور پر ریاض آنے کی دعوت دیں۔

ترجمان اریے شالیکار کے مطابق یسرائیل کاٹز نے یہ بات بدھ کے روز ایلاف نامی نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کی۔ تاہم شائع کیے جانے والے انٹرویو میں ان کی اس خواہش کو شامل نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ شائع کیے جانے والے انٹرویو میں یہ بات شامل کیوں نہیں کی گئی تاہم وہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یسرائیل کاٹز نے یہ بات کی تھی۔

واضح رہے کہ ایلاف ویب سائٹ کے مالک ایک سعودی کاروباری شخصیت ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ایسا دورہ اگر عمل میں آتا ہے تو یہ انتہائی بےمثال نوعیت کا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

حزب اللہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیل

کیا محمد سلمان سعودی عرب کی سب سے طاقتور شخصیت بن چکے ہیں؟

’سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم کو قید کر رکھا ہے‘

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ایسا دورہ اگر عمل میں آتا ہے تو یہ انتہائی بےمثال نوعیت کا ہوگا۔

ماضی میں اسرائیلی حکام عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی جانب اشارہ کرتے رہے ہیں اور اس بات کے بھی اشارے دیتے رہے ہیں کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان پسِ پردہ تعاون ہوتا ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے حوالے سے۔

اریے شالیکار نے یسرائیل کاٹز کے حوالے سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شاہ سلمان وزیراعظم نیتن یاہو کو سرکاری طور پر ریاض آنے کی دعوت دیں اور وہ محمد بن سلمان کو اسرائیلی دورے کی دعوت دیتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کاٹز نے یہ ہاتھ اس لیے بڑھایا ہے کیونکہ وہ علاقائی امن چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیل کی فوج کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل گیڈی ائزنکوٹ نے کہا تھا کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے کیونکہ دونوں ملک کا مشترکہ مفاد ایران کو روکنے سے وابستہ ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں ایران سے مشترکہ دشمنی کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل میں اشتراک پیدا ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عرب ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے حزب اللہ سمیت مختلف جنگجو گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔

چند دنوں قبل یمن سے ریاض کے ہوائی اڈے پر راکٹ کے ناکام حملے کی ذمہ داری بھی سعودی عرب نے ایران پر عائد کی تھی اور اسے ایران کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا تھا۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات صرف اسی صورت قائم ہو سکتے ہیں کہ اسرائیل سنہ انیس سو اڑسٹھ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں کو خالی کر دے۔

اسی بارے میں