سعودی عرب پر حملے کے لیے یمنی باغیوں کو میزائل ایران نے دیے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران نے حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ نکی ہیلی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے سعودی عرب پر حملے کے لیے یمن کے حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کیے۔

نکی ہیلی نے ایک بیلسٹک میزائل کے باقیات صحافیوں کو دکھائے جو گذشتہ ماہ ریاض ہوائی اڈے کے قریب گرائے گئے۔

انھوں نے کہا، ’شاید اس پر میڈ ان ایران کے سٹیکرز بھی لگے ہوں۔ ‘

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب نے یمن تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی

ایران یمن میں قیامِ امن میں ناکامی کا ذمہ دار: سعودی عرب

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایران نے حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ حوثی باغی سنہ 2015 سے سعودی قیادت میں یمنی حکومت کی حامی فوجوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

ایران نے اس الزام کو ’غیر ذمہ دار، اشتعال انگیز اور تباہ کن‘ قرار دیا ہے۔

لیکن نکی ہیلی نے کہا کہ ’میزائل کے باقیات کی تکنیکی جانچ کے بعد سٹیبیلائزر فنز کی عدم موجودگی اور بہت سے والوز کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میزائل ایران میں بنائے گئے ہیں۔ ‘

انھوں نے کہا کہ یہ میزائل سینکڑوں عام لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’ایران کی حکومت کا رویہ مسلسل بدتر ہو رہا ہے۔‘

یمن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو ریاض ایئرپورٹ کے قریب بغیر کسی نقصان کے ناکارہ بنا دیا تھا

انھوں نے کہا کہ، ’ہمیں اس بارے میں آواز اٹھانا ہوگی اور ایران کی حکومت کے عزائم کو سامنے لانا ہوگا، جو پوری دنیا کی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

نکی ہیلی نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تعاون اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے خفیہ معلومات سامنے لانے جیسا غیر معمولی قدم اٹھا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یمنی بحران جس سے ’دنیا نے نظریں پھیر لیں‘

سعودی اتحادی افواج ’بچوں کو ہلاک کرنے کی فہرست میں شامل‘

انھوں نے کہا، ’عالمی امن اور سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ایران کے جارحانہ رویے کے خلاف مل کر کام کریں۔‘

نکئی ہیلی نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطی میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور امریکہ اس کے خلاف بین الاقوامی اتحاد تیار کرے گا۔ ان میں سفارتی اقدامات شامل ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ یہ ثبوت امریکن ایجنڈے کے تحت گھڑے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نکی ہیلے نے ایک بیلسٹک میزائل کے باقیات صحافیوں کو دکھائے جو گذشتہ ماہ ریاض ہوائی اڈے کے قریب گرائے گئے

ایرانی مشن کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ ، ’یہ الزامات یمن میں امریکہ سازش کے تحت سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کو چھپانے کی ایک کوشش بھی ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی میں مکہ کے قریب گرنے والے میزائل ریاض ہوائی اڈے کے قریب گرنے والے میزائل ایک ہی جگہ بنائے گئے۔‘

تاہم، رپورٹ میں دعوی نہیں کیا گیا کہ یہ میزائل ایران سے آئے تھے۔

ایران کی وزراتِ خارجہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ نومبر میں میزائل حملہ سعودی اتحادی کے حملے کے جواب میں، حوثی باغیوں کی جانب سے کی گئی ’خود مختار کارروائی‘ تھا۔

اسی بارے میں