کیا سعودی عرب نے اردن پر دباؤ ڈالنے کے لیے فلسطینی ارب پتی کو حراست میں لیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption صبیح المصری نے اردن میں ہوٹلز اور بنکوں کے شعبوں میں کئی ارب ڈالرز کی سرمایہ کررکھی ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے ۔

اردن کی بااثر کاروباری شخصیت صبیح المصری کے خاندان کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے صبیح المصری کو زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے اور وہ جلد اردن واپس لوٹ آئیں گے۔

صبیح المصری کے خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ انھیں جلد ہی ریاض سے جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

صبیح المصری کےخاندانی ذرائع اور دوستوں کا کہنا ہے کہ ریاض میں ایک کاروباری دورے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے سعودی عرب میں انھیں زیر حراست لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب:’گرفتار افراد معافی کے سمجھوتے پر رضامند‘

’دنیا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے‘

’اعلانِ یروشلم انتہا پسندی کو ہوا دینے کا سبب بنے گا‘

سعودی عرب میں مصری کو حراست میں لیے جانے پر اردن اور فلسطینی علاقوں میں موجود کاروباری حلقوں کو شدید تشویش ہے جہاں صبیح المصری نے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق فلسطینی نژاد سعودی شہری صبیح المصری کو گذشتہ ہفتے منگل کو اپنی کمپنیوں کی مختلف میٹنگز کے بعد اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واپس اردن جانے کی تیاری کررہے تھے۔

وہ سعودی آسترا گروپ کے بانی ہیں جن کے زرعی صنعت سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشنز، تعمیرات اور خطے بھر میں کان کنی تک متنوع صنعتوں میں وسیع مفادات ہیں۔

اس معاملے سے واقف ایک خاندانی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'صبیح المصری ایئرپورٹ کی طرف جارہے تھے کہ ان سے کہا گیا کہ جہاں ہو وہیں رہو اور وہ انھیں لے کے چلے گئے۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب کا ہر وقت سرخیوں میں ذکر رہتا ہے

انھوں نے عمان میں بدھ کو طے شدہ ایک عشایہ منسوخ کردیا جس میں عرب بینک کے بورڈ کے ارکان اور کاروباری ساتھیوں کو مدعو کررکھا تھا۔

صبیح المصری کا موقف جاننے کے ان تک نہیں پہنچا جاسکا اور سعودی حکام نے تبصرے کی درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا۔

صبیح المصری کے معتمد لوگوں کا کہنا ہے کہ نومبر کے آغاز پر سعودی شاہی خاندان کے افراد، وزرا اور کاروباری شخصیات کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے بعد مصری کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض نہ جائیں۔

سیاسی محرک

صبیح المصری کی حراست کے محرکات ابھی واضح نہیں ہیں۔ لیکن سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب شاید مصری کی گرفتاری کے ذریعے اردن کے شاہ عبداللہ پر دباؤ ڈالنا چاہتا تھا کہ وہ گذشتہ ہفتے ترکی میں ہونے والے اسلامی ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کریں۔

یہ اجلاس امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے یھا۔ تاہم اردن کے بادشاہ نے استنبول میں منعقد اس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ وہ یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نگراں ہیں اور یروشلم پہ ٹرمپ کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اردن کے بادشاہ یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نگراں ہیں اور یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے اور امریکہ کے اسے تسلیم کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

صبیح المصری کا تعلق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے علاقے نابلس کے ایک مشہور تاجر خاندان سے ہے۔ 1991 میں خلیج کی جنگ کے دوران عراق سے کویت کو واپس لینے کے لیے امریکی آپریشن کے دوران فوجی دستوں کو کیٹرنگ کی سہولیات فراہم کرنے میں بااثر سعودیوں کے ساتھ شراکت کی اور بہت امیر ہوگئے۔

صبیح المصری نے اردن میں ہوٹلز اور بینکوں کے شعبوں میں کئی ارب ڈالرز کی سرمایہ کررکھی ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔

صبیح المصری کاخاندان فلسطینی علاقوں کے سب سے امیر ترین میں سے ایک ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں