ایران:یمن میں ایرانی ہتھیار موجود نہیں، الزامات بے بنیاد ہیں

میزائل

،تصویر کا ذریعہReuters

ایران نے سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ منگل کو ریاض پر یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے داغا جانے والا میزائل ایران نے فراہم کیا تھا۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن میں ان کے کوئی ہتھیار موجود نہیں اور ویسے بھی ملک محاصرے میں ہے اور ایسا ہونا ممکن بھی نہیں۔

سعودی فوج نے ریاض کے جنوبی حصے میں ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ٹی وی چینل المسیرہ کی ویب سائٹ پر حوثی میزائل فورسز سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شام برکان ٹو میزائل فائر کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملہ یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا۔

المسیرہ نے کہا ہے کہ میزائل کا نشانہ یماما محل میں شہزادہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ تھی۔

،تصویر کا ذریعہALMASIRAH

امریکہ کا الزام

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یمن سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا۔

نکی ہیلی نے کہا کہ ایران کے اقدامات سے دنیا کو وسیع علاقائی تنازعے میں گھسیٹنے کا خطرہ پیدا ہو گيا ہے۔

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ ریاض پر داغے جانے والے میزائل پر ’ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا نشان تھا جو گذشتہ حملوں میں بھی استعمال ہوا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ’ہم سب کو لازمی طور پر تہران کی حکومت کے جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسے ہمارا پیغام ملے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ایران دنیا کو وسیع پیمانے پر علاقائی تنازعات میں گھسیٹے گا۔‘

انھوں نے کہا 'عالمی امن اور سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ایران کے جارحانہ رویے کے خلاف مل کر کام کریں۔'

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سعودی اتحاد کے حکام کے حوالے سے کہا کہ میزائل ریاض کے رہائشی علاقے پر فائر کیا گیا تھا جسے پیٹریاٹ میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے یمن کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور قریباً 50 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔