اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا ہے

امریکی فیصلے کے خلاف احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے بعد مظاہرے بھی ہوئے ہیں

اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا بیان اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس سے کچھ گھنٹے پہلے آیا ہے جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو واپس لینے کی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی۔

اس قرارداد پر رائے شماری کو امریکی صدر نے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ ہم سے ہزاروں لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں اس ووٹنگ کو، انھیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دیں، ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے، ہمیں پروا نہیں۔‘

اعلان یروشلم کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

یروشلم پر امریکی ویٹو، فلسطین جنرل اسمبلی جائے گا

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

کیا یروشلم اب عربوں کا مسئلہ ہے؟

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یروشلم کے بارے میں امریکی اعلان کے بعد جمعرات کو عرب اور مسلمان ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک خصوصی ہنگامی اجلاس کر رہے ہیں۔

مصر کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے میں امریکہ کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ یروشلم کے بارے میں ہر فیصلے کو ختم کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران وہ ’ان ممالک کے نام لیں گے‘ جو ان کے خلاف گئے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے رکن ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے کہا ہے کہ وہ انھیں ہمارے خلاف ووٹ دینے والوں کے بارے میں رپورٹ کریں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے اسے دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شہر کا مشرقی حصہ اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ اس سے قبل یہ علاقہ اردن کے قبضے میں تھا۔

فلسطینی مشرقی یروشلم پر اس کی مستقبل کی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کی حتمی حیثیت کے بارے میں امن مذاکرات کے آئندہ مراحل میں بات چیت ہوگی۔

اسی بارے میں