کیا اقوام متحدہ کی قرارداد سے امریکہ پر کوئی فرق پڑے گا؟

ٹرمپ نیتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دهمکی کے باوجود اقوام متحدە کی جنرل اسمبلی نے وە قرارداد منظور کر لی ہے جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وە مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔

جس کے بعد بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علامتی قرارداد کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ اگر امریکہ نے مخالفت کرنے والے ممالک کی امداد روک لی تو اس کے سنجیدہ نقصانات ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کی امداد بند کرنے کی دهمکی دی تهی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان یروشلم کثرتِ رائے سے مسترد

یروشلم پر امریکی ویٹو، فلسطین جنرل اسمبلی جائے گا

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

لیکن کیا وە ایسا کر پائیں گے؟ اس بارے میں تاحال وائٹ ہاوس سے کوئی بیان تو جاری نهیں ہوا لیکن ماہرین کے بقول ایسا کرنا مشکل ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قرارداد کی کوئی قانونی اہمیت بھی ہے؟

قانونی اعتبار سے امریکہ پر ہرگز لازم نہیں کہ وہ قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائے لیکن اس سے اسرائیل کے خلاف ایک مرتبہ پهر عالمی برادری یکجا ضرور نظر آئی ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر مقتدر خان نے کہا کہ ’یہ ایک علامتی قرارداد ہے اس سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پالیسی بدلنے والے نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر مقتدر کا کہنا تھا کہ ’ایک طرح سے ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ساری دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یہ بات ظاہر کریں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایک مرتبہ پهر اسرائیل دنیا سے کٹ کر رە گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی ہار ہے مگر فلسطین کی جیت بهی نہیں، کیونکہ فلسطینیوں کو اس سے کچھ نہیں ملنے والے اور اگر آپ یروشلم کا نقشہ دیکهیں تو فلسطین پہلے ہی اپنی بہت ساری زمین یہودیوں کے ہاتهوں کهو چکا ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ عالمی برادری نے بڑی سطح پر اقوام متحدە میں امریکہ کی مخالفت کی ہے۔ اس سے پہلے بھی جب فلسطین کو ’نان سٹیٹ ممبر‘ کا رتبہ دینے پر رائے شماری ہوئی تھی تو بهی امریکہ کی مخالفت ہوئی اور وہاں بهی امریکہ کی ہار ہوئی تهی۔

اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر امریکہ ہمیشہ تنہا رہا ہے۔ عراق کی جنگ کے معاملے میں بهی اقوام متحدە کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی محالفت میں قرارداد منظور کی تهی، مگر عراقی جنگ پهر بهی ہوئی۔

جبکہ اسرائیل کا ساتھ دینے کی ایک وجہ امریکی سیاستدانوں میں مضبوط سیاسی لابی ہونا ہے۔ سابق صدر اوباما بهی جاتے جاتے اسرائیل کو 38 بلین ڈالر کی امداد دے کر گئے تهے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واشنگٹن میں مقیم تجریہ کار کامران بخاری کہتے ہیں کہ اخلاقیات ایک طرف اور طاقت کا سرچشمہ ایک طرف، امریکہ دنیا کا طاقتور ملک ہے اور وە اپنے ساتهی ممالک کے خلاف کبهی نہیں جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ’امریکی صدر کے لیے اپنی دھمکی پر عمل درآمد کرنا بظاہر مشکل ضرور ہو گا۔ کیونکه یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا صدر ٹرمپ کا فیصلہ امریکہ میں بهی تنقید کا نشانہ بنا ہے، انہیں خاصی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کیا ایسے میں وە اپنے خلاف جانے والے ملکوں کی امداد روکنے کے سلسلے میں حمایت اکهٹی کر پائیں گے؟ لیکن اگر صدر ٹرمپ امداد روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بہت سارے ملک خاصہ نقصان اٹها سکتے ہیں خصوصاً وە ممالک جو غریب ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے سب سے بڑی فوجی امداد لینے والے چھ ملک ہیں جن میں پاکستان، افغانستان اور عراق سمیت پانچ مسلم ممالک اور ایک اسرائیل ہے، تو کیا پاکستان کی مالی امداد ختم کی جا سکتی هے ؟

اس سلسلے میں ڈاکٹر مقتدر خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان یا دیگر ملکوں کو ملنے والی امریکی فوجی امداد اس لیے دی جاتی ہے کیونکہ وە امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ تو وە تو نہیں ختم کی جا سکتی لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ جو چهوٹے کم امداد لینے والے ایک دو ملک ہیں ان کو نشانہ بنایا جا سکتاہے محض علامتی طور پر۔‘

ڈاکٹر مقتدر خان کا کہنا تھا کہ ’اہم چیز یہ ہے کہ امریکہ تقریباً آٹھ بلین ڈالر کی سالانہ امداد اقوام متحدە کو دیتا ہے یعنی وە اقوام متحدە کو ملنے والی ایک چوتهائی سے زیادہ امداد۔ اگر امریکہ وە امداد کم کرتا ہے تو اس سے اقوام متحدە کے بہت سارے منصوبوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں